کالم

بجلی کا میٹر، حکمران طبقات اور شہری کو باندھنے کا رشتہ: علی ارقم کا کالم

فروری 9, 2026

بجلی کا میٹر، حکمران طبقات اور شہری کو باندھنے کا رشتہ: علی ارقم کا کالم

خبر یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے صنعت کو بجلی کے اخراجات میں فی یونٹ چار روپے چار پیسے کی رعایت دینے کے لیے دو کروڑ پچاسی لاکھ سے زائد گھریلو بجلی صارفین پر ماہانہ دو سو سے چھ سو پچھتر روپے تک کے فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے تقریباً 125 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے، جن کا مقصد صنعتی صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

بظاہر یہ فیصلہ ایک تکنیکی اور انتظامی قدم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر درحقیقت یہ نیولبرل معیشت کی نمائندہ اس ریاست کی طبقاتی ترجیحات کو عیاں کرتا ہے، جو بالادست طبقات کے مفادات کی محافظ ہے۔

اس مقصد کیلئے معاشی فیصلوں کو ایسے پیش کیا جاتا ہے، جیسے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنا کوئی ناگزیر تکنیکی ضرورت ہو، نہ کہ سوچ سمجھ کر کیا گیا سیاسی انتخاب۔ حقیقت یہ ہے کہ بالائی طبقے کو منافع دلوانے کی قیمت براہِ راست عام شہری ادا کر رہا ہے۔

یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ صنعت کو رعایت ملنی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس رعایت کی قیمت کون ادا کرے؟

حکومت نے یہ بوجھ ان لوگوں پر ڈال دیا ہے جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدن کے شدید دباؤ میں ہیں، جبکہ بڑے صنعتی اور برآمدی شعبے کو “قومی معیشت” کے نام پر تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔

میشل فوکو کے تصورِ گورنمنٹالٹی کے مطابق جدید طاقت براہِ راست جبر کے بجائے طرزِ فکر، رویّوں اور سیلف سرویلنس کے ذریعے کام کرتی ہے۔ ریاست شہری کو حکم دینے کے بجائے اسے اس طرح کنڈیشن کرتی ہے کہ وہ خود کو ایک “ذمہ دار معاشی اکائی” کے طور پر نظم میں لے آئے۔

بجلی کے فکسڈ چارجز اسی طرزِ حکمرانی کی مثال ہیں، جہاں آزادی کو ختم نہیں کیا جاتا بلکہ اسے قابل مواخذہ اور قابلِ سزا بنا دیا جاتا ہے۔

اسی تناظر میں سولر توانائی کی طرف شہریوں کی منتقلی کو بھی ایک “مسئلہ” بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ ریاست کی جانب سے بنیادی سہولت کی مسلسل ناکامی کے خلاف ایک منطقی ردِعمل ہے۔ مگر ریاست اس عوامی ردِعمل کو مالی خطرہ قرار دے کر گرڈ سے جڑے رہنے کی قیمت بڑھاتی جا رہی ہے۔ اب چاہے بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، ادائیگی لازم ہے، یعنی گرڈ سے وابستگی ایک اخلاقی و معاشی فرض بن گیا ہے۔

ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سبسڈی کو بجٹ میں محدود رکھنے کی شرط نے ریاست کو اس راستے پر ڈالا ہے، لیکن یہ بات نظرانداز کردی جاتی ہے کہ حکمران طبقات جان کر براہِ راست ٹیکس اصلاحات، اشرافیہ کی مراعات میں کٹوتی یا توانائی کے شعبے میں گورننس ریفارمز کے بجائے عام لوگوں پر بوجھ کی منتقلی کو ترجیح دیتی ہے۔ جب بھی عام لوگوں کے لیے سبسڈی یا رعایت کی بات آئے تو اسے بجٹ خسارے اور “مالی غیر ذمہ داری” قرار دے دیا جاتا ہے، مگر یہی اصول صنعت کاروں پر یکساں لاگو نہیں ہوتا۔

عالمی مالیاتی اداروں کے مطالبات اور صنعتی سرمائے کی ضروریات کے بیچ سب سے کمزور فریق ہمیشہ عام شہری ہی ٹھہرتا ہے۔

یوں عام شہری، جو کبھی حقوق رکھنے والا فرد سمجھا جاتا تھا، اب ایک میٹرڈ سبجیکٹ میں بدل چکا ہے۔ اس کی سیاسی حیثیت کمزور اور اس کی معاشی قدر محض اس کے میٹر کی ریڈنگ سے متعین ہوتی ہے۔

بجلی کا بل اب صرف بل نہیں رہا، بلکہ اس نئے سماجی معاہدے کی روزمرہ یاد دہانی بن چکا ہے، جس میں ریاست ثالث ہے اور شہری محض ادائیگی کرنے والا فریق۔

پھر یہ فیصلہ محض توانائی پالیسی کی کوئی تکنیکی ایڈجسٹمنٹ نہیں، بلکہ پاکستان میں قائم ملٹری بیوروکریٹک اولیگارکی اور اس کے ساتھ جڑے سرمایہ دار و جاگیردار طبقے کی رینٹ سیکنگ حرکیات کی ایک کلاسیکی مثال ہے۔

پولیٹیکل اکانومی کے علم کے مطابق، رینٹ سیکنگ وہ عمل ہے جس میں طاقتور طبقات ریاستی اداروں اور پالیسی سازی کو استعمال کر کے بغیر کسی ٹھوس پیداواری سرگرمی کے اپنے لیے مراعات اور تحفظ حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ اس کی قیمت کمزور اور غیر منظم طبقات ادا کرتے ہیں۔

اس فیصلے میں یہی منطق پوری طرح نمایاں ہے: صنعتی طبقے کو “ریلیف” دینے کے لیے ریاست نے براہِ راست گھریلو صارفین، خصوصاً کم اور متوسط آمدن والے طبقے، پر فکسڈ مالی بوجھ منتقل کر دیا ہے۔

ایک وقت تھا جب سیاسی جماعتیں عوام کی نمائندہ ہوا کرتی تھیں۔ آج نہ وہ جماعتیں باقی رہیں اور نہ وہ نمائندگی۔ ریاست بھی اب سماجی فلاح و بہبود کی ضامن یا عدم مساوات کم کرنے والا ادارہ نہیں رہی، بلکہ اس کا بنیادی کام مالیاتی خسارے، سبسڈی کے حجم اور ریونیو اہداف کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مقرر کردہ حدود میں رکھنا بن چکا ہے۔

یوں سماجی انصاف کوئی ترجیح نہیں رہا, بس فِسکل ڈسپلن ہی مقصود ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے