چیف جسٹس فورا بولے، نہ، یہ نہ کریں پلیز۔ سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر1 کی سماعت کا مکمل احوال
جمعرات کی صبح سپریم کورٹ میں ساڑھے نو بجے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کمرہ عدالت میں پہنچا۔
عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا خط اور رپورٹ مل چکی ہے مگر اس وقت ہم قانونی پوزیشن/معاملہ دیکھیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ درخواست ہائیکورٹ میں بھی زیرسماعت ہے کیونکہ وہاں سزا کے فیصلے پر اپیل دائر ہے تو یہاں (سپریم کورٹ میں) یہ غیر مؤثر نہیں ہو گئی؟ وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں حالات مختلف ہیں۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر اب اس درخواست میں کی گئی استدعا پر مناسب حکم جاری کر دیں تو کیا اس سے دیگر فریقوں کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے؟ لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں درخواست نمبر 1051 میں بھی عدالت نے کہا تھا کہ تین ججز کا بینچ سماعت کرے گا۔ اس کیس میں ہائیکورٹ نے سزا معطل کی مگر فیصلہ ختم نہیں کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے کو ابھی یہاں زیرِبحث نہ لائیں پہلے ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیں تاکہ اس کے بعد ایک ہی بار سپریم کورٹ اس کو دیکھے۔ جسٹس بلال حسن نے وکیل سے کہا کہ متفرق درخواست میں جو معاملات اُٹھائے گئے تھے وہ بعد ازاں ماتحت عدلیہ کے فیصلے میں آئیں، یہ بالآخر سپریم کورٹ آئے گی۔
چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے کہا کہ جن مخصوص حالات کا آپ ذکر کر رہے ہیں اُن کو دیکھ لیتے ہیں۔ اس کیس میں اُن کے خلاف غیرموجودگی میں یا دفاع موجود نہ ہونے پر فیصلہ کیا گیا۔ اگر آپ کہتے ہیں تو یہ درخواست سپریم کورٹ میں رہنے دیں، ہائیکورٹ میں اپیل پر فیصلہ ہونے دیں، اس کے بعد دیکھ لیں گے۔ بینچ نے معاونت پر وکیل لطیف کھوسہ کا شکریہ ادا کیا، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ اب روسٹرم چھوڑ دیں۔
لطیف کھوسہ نے جاتے جاتے کہا کہ انہوں نے ابھی تک رپورٹ (عمران خان کی صحت سے متعلق) نہیں دیکھی، سلمان صفدر بہت پروفیشنل وکیل ہیں اُنہوں نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔
چیف جسٹس نے مُسکراتے ہوئے کہا کہ وہ رپورٹ عدالت کے لیے تھی۔ ابتدائی 15 منٹ کی اس سماعت کے بعد عدالت نے وکیل سلمان صفدر کو روسٹرم کو بُلایا۔۔۔۔
وکیل لطیف کھوسہ کا شکریہ ادا کر کے چیف جسٹس نے تشریف رکھنے کے لیے کہا تو وہ روسٹرم چھوڑ کر اپنی کرسی تک جاتے جاتے بھی بولتے رہے، جس پر چیف جسٹس نے اُن سے دوبارہ کہا کہ تشریف رکھیں۔
چیف جسٹس کی ہدایت پر وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل منصور اعوان سے بھی کہا کہ وہ بھی آ جائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’اس سے قبل کہ رپورٹ پڑھیں، فرینڈ آف دی کورٹ ہم سب کی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہم نے دونوں رپورٹس دیکھی ہیں جو سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ نے دی ہیں۔‘
اس کے بعد وکیل سلمان صفدر نے رپورٹ کا متعلقہ حصہ پڑھنا شروع کیا جس میں عمران خان کے جیل میں معمولات کا ذکر تھا۔
اس کے بعد وکلا اور فیملی سے ملاقات کے حوالے سے تجویز پڑھی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ’یہ اس عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ کوئی حکم جاری کرے، جہاں اپیل زیرِسماعت ہے وہی عدالت مناسب احکامات جاری کرے گی۔‘
سلمان صفدر نے رپورٹ پڑھنے میں وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بات بتانا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں، آگے پڑھیں۔
سلمان صفدر نے کہا کہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ گزشتہ روز سے اُن کو 100 کے لگ بھگ پیغامات ایسے ملے کہ ’آپ ہم پر اعتبار کر سکتے ہیں، رپورٹ میں کیا ہے وہ بتا دیں، یہاں تک کہ میری اہلیہ نے بھی یہ کہا۔‘
چیف جسٹس نے اُن کو ایک بار پھر سراہا۔
سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے دوبارہ رپورٹ پڑھنا شروع کی تو بتایا کہ وہ دو گھںٹے عمران خان سے گفتگو/انٹرویو کرتے رہے۔ اُن کے جیل معمولات کے بارے میں بتانے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ اُس حصے کی طرف آئیں جس میں دلچسپی ہے۔
فرینڈ آف دی کورٹ نے صحت اور آنکھ کی بیماری والا پیراگراف پڑھا اور پھر اپنی تجویز کہ کسی تاخیر کے بغیر طبی معائنہ اور علاج کیا جانا چاہیے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ وہ خدشات ہیں جن پر توجہ ہونی چاہیے۔ یہ حکومت کے ذمے ہے کہ اس کو دیکھے۔ اور یہ اس خاص قیدی کی بات نہیں بلکہ ایک عمومی معاملہ ہے کہ صحت کے حوالے سے غفلت نہیں ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس کی جانب سے ان ریمارکس کا مخاطب اٹارنی جنرل تھے جو فورا بولے کہ ’یہ ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم اس حوالے سے مزید بھی کریں گے۔‘
چیف جسٹس نے اس کے بعد کہا کہ ’ہم حکومت پر اعتبار کرتے ہیں، اور حکومت لگتا ہے کہ اچھے موڈ میں ہے تو ہم یہ بات بھی کرتے ہیں کہ بیٹوں کی اُن سے فون کالز پر بات کرائی جائے۔ اہلخانہ کی ملاقات کے لیے معاملہ دوسری عدالت میں ہے، اس کو بھی حکومت دیکھے۔ جہاں تک کتابوں کی فراہمی کی بات ہے میری تجویز یہ ہوگی کہ وہ ابھی آنکھ کی حالت کی وجہ سے نہ پڑھیں۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس سلمان صفدر کی جانب سے عمران خان کے بیٹوں سے فون پر بات کرانے کی تجویز کا پیراگراف پڑھنے سے قبل دیے اور رپورٹ کا وہ حصہ اُن کو پڑھنے ہی نہ دیا۔
اس کے بعد سلمان صفدر نے کہا کہ وہ دوسری تجویز (اگلے پیراگراف) کی طرف آتے ہیں۔ تو چیف جسٹس نے اُن کو روکتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال سے یہ ہو گیا ہے۔‘
چیف جسٹس نے فورا اٹارنی جنرل کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ ’اس (طبی معائنے) میں کتنا وقت لگے گا۔‘
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جلد کر لیں گے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ سولہ (فروری) سے پہلے ہو جائے گا؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’جی، ہم کر لیں گے۔‘
اس کے بعد عدالتی حکمنامہ لکھوایا جانے لگا جس کے مطابق اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ بھی موصول ہوئی۔
چیف جسٹس نے آرڈر لکھواتے ہوئے سٹینوگرافر سے کہا گیا کہ ’رپورٹ کا پیراگراف 20 اور پھر پیراگراف 21 کی ایک سے چھ تک سطریں شامل کر کے لکھیں کہ آپتھامولوجسٹ، (جی بھی اس کی سپیلنگ ہے، درست کر لیجیے گا۔) اُن سے طبی معائنہ کرایا جائے۔‘
’اُن کے دونوں بیٹوں سے ٹیلی فون کالز (دونوں کے نام لکھیں، قاسم اور سلیمان) سے، اس کے لیے پہلے سے وقت بتایا جائے۔‘
سلمان صفدر نے اس پر کہا کہ جیل رولز کے مطابق جو بھی طریقہ کار ہے اس کے تحت کرائی جائے۔
آرڈر کا اگلا پیراگراف لکھوایا گیا تو وکیل سلمان صفدر نے استدعا کی کہ عمران خان کا طبی معائنہ گھر کے کسی فرد کی موجودگی میں کیا جائے۔
چیف جسٹس فورا بولے، نہ، یہ نہ کریں پلیز۔
آُن کے ساتھ خاموش بیٹھے جسٹس شاہد بلال حسن پوری سماعت میں دوسری بار بولے کہ ’فرینڈ آف دی کورٹ کی طرف سے یہ بات نہیں ہونی چاہیے۔‘

