بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 9 مزدور اغوا، پولیس اہلکار قتل
بلوچستان کے مختلف علاقوں سے نامعلوم مسلح افراد نے چھ مزدور اغوا کر لیے ہیں جبکہ بولان کے علاقے میں ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔
مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق خضدار سے چھ مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد اغوا کر کے لے گئے ہیں۔
مزدور اپنی سائٹ پر بنے کیمپ میں رات کو قیام کئے ہوتے تھے۔
بارکھان میں ایک کرش پلانٹ پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا اور موسی خیل سے تعلق رکھنے والے تین مزدوروں کو اغوا کر لیا۔
مسلح افراد نے کرش پلانٹ کے قریب پولیس چوکی پر بھی حملہ کیا اور وہاں موجود تین پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر اسلحہ چھین لیا۔
ادھر بولان کے علاقے میں ڈاکوؤں کی فائرنگ پولیس کا اے ایس آئی دوران ڈیوٹی مارا گیا ہے۔
یہ واقعہ بولان میں ڈھاڈر کمبڑی پل پر قومی شاہراہ پر پیش آیا جہاں پولیس کی گشتی پارٹی پر فائرنگ کی گئی۔
فائرنگ سے اے ایس آئی محمد موسیٰ مستوئی کی موت واقع ہو گئی جبکہ ڈاکوں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
حکام کے مطابق ڈاکوں کمبڑی پل این 65 قومی شاہراہ پر ڈکیتی کر رہے تھے جب پولیس موقع پر پہنچی جہاں دو طرفہ فائرنگ سے پولیس جوان مارا گیا۔
مقتول اہلکار کی لاش کو سول ہسپتال سبی منتقل کیا گیا۔

