متفرق خبریں

بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی آخری ملاقات، فرحت اللہ بابر کی کتاب سے اقتباس

مارچ 8, 2026

بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی آخری ملاقات، فرحت اللہ بابر کی کتاب سے اقتباس

ترجمہ: عماد احمد

یہ دسمبر 2007 کی بات ہے، اسلام آباد اور پاکستان کی جمہوریت پر ایک یخ بستگی طاری ہونی شروع ہو گئی تھی۔ ملک عام انتخابات سے صرف دو ہفتے دور تھا، جو جنرل مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان اذیت ناک مذاکرات کے بعد ’میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘ میں طے پایا تھا۔

جلاوطنی سے واپسی کے بعد، بینظیر بھٹو کے پاؤں دھمکیوں کی بارودی سرنگوں میں یہاں سے وہاں گردش میں تھے، یہ دھمکیاں سیاسی اور ان کی ذات کے حوالے تھیں۔ لیکن اس سرد شام کو، انہوں نے سابق وزیراعظم میان نواز شریف کے ساتھ زرداری ہاؤس اسلام آباد میں رات کے کھانے کے لیے وقت نکالا۔ یہ ایک دوستانہ ملاقات تھی۔ ایک برس قبل دونوں رہنماؤں نے 90 کی دہائی کی تلخیوں کو بھلاتے ہوئے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے۔
اس شام کو بھول پانا مشکل ہے۔

بینظیر بھٹو نے اپنے دیرینہ سیاسی حریف، میاں نواز شریف، جو اب اپوزیشن میں ان کے ساتھی تھے، کو زرداری ہاؤس آنے کی دعوت دی تھی۔ ان کے ساتھ ان کی جماعت کے دو وائس چیئرمینز مخدوم امین فہیم اور یوسف رضا گیلانی اس ملاقات میں موجود تھے، جبکہ نواز شریف کے ساتھ راجہ ظفر الحق اور ان کے ایک اور قریبی ساتھی تھے۔
میں بھی اس ملاقات میں موجود تھا، اور بینظیر، مخدوم اور گیلانی کے پیچھے بیٹھا تھا جہاں سے میں براست راست نواز شریف کو دیکھ سکتا تھا۔

دونوں سابق وزرائے اعظم نے ایک دوسرے کی خیر خیریت معلوم کرنے کے بعد اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ کوئی عام سیاسی ملاقات نہیں ہے، یہ کوئی بڑا معاملہ ہے۔

بینظیر نے نواز شریف کا ان کی دعوت قبول کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’میاں صاحب، میں نے آپ کو تکلیف دی ہے۔ کیونکہ میاں صاحب، میں نے سوچا کہ ہمیں ہر کچھ برس بعد سیاسی مداخلت، سیاسی عمل کے پٹری سے اتر جانے اور آئین کی پامالی پر لازمی مل کر بات کرنی چاہیے۔‘

نواز شریف نے اپنی آنکھوں کو ذرا اوپر کی جانب کیا جیسے وہ اور بھی کچھ سننا چاہتے ہوں۔ وہ اپنی نشست پر آگے کی طرف ہوئے اور انہیں اپنی بات جاری رکھنے کا کہا۔ وہ (بینظیر) جو کہہ رہی تھیں وہ ان (نواز شریف) کے کانوں کو بڑا بھلا لگ رہا تھا۔ میں اور چوکس ہو گیا۔
انہوں نے کہا ’ایسے نہیں چل سکتا‘، اور زور دیا کہ ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
’میں نے اس پر جلاوطنی کے دوران غور و فکر کیا ہے۔ ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور مل کر کچھ کرنا چاہیے۔ آپ بھی اس پر سوچیں ہوں گے میاں صاحب۔ ہم دونوں دو دو دفعہ وزیراعظم رہے ہیں اور ان تمام چیزوں کے عینی شاہدین ہیں، میرے خیال میں یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کچھ کریں۔‘

میری خواہش تھی کہ وہ اپنا تجزیہ چاری رکھتیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات پوری کرتیں، نواز شریف بیچ میں بول پڑے: ’بی بی، آپ بالکل ٹھیک کہتی ہیں۔ میں نے بھی بہت غور کیا ہے اس پر۔ میں نے بہت سوچا ہے بی بی اس پر۔ میں تیار ہوں۔‘

بینظیر کو کچھ اطیمنان ہوا اور امید جاگی کہ ان سے یہ ملاقات کوئی بے نتیجہ مشق نہیں ہے۔
نواز شریف نے اپنی بات جاری رکھی، ’بی بی، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے پھر شب خون مارا تو کیا کرنا ہے۔‘
اس بات نے سنسنسی پیدا کر دی۔ ’واقعی؟‘، بینظیر نے حیرانی سے پوچھا، ان کی نظریں نواز شریف پر جمی تھیں۔
انہوں نے کافی بے صبری سے پوچھا، ’آپ کیا کریں گے، آپ کیسے تیار ہیں۔‘

اس لمحے، میں فطری طور پر اپنی نوٹ بک اور پین کی جانب لپکا۔ میں بینظیر بھٹو کے بالکل پیچھے بیٹھا ہوا تھا، ذرا سا سائیڈ پر۔ مخدوم امین فہیم اور یوسف رضا گیلانی ان کے ساتھ آگے بیٹھے تھے، جبکہ نواز شریف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ٹیبل کی دوسری طرف تھے۔ میں نے خاموشی سے اپنی نوٹ بک کھولی، میرا قلم تیار تھا اور شارٹ ہینڈ میرا اثاثہ تھا۔
نواز شریف نے میری بے چینی محسوس کر لی۔ ان کی آنکھیں میری آنکھوں سے ٹکرائیں: ’بابر صاحب، ایں نی لکھنا۔‘
انہوں نے اپنی روایتی انداز سے ہاتھ کے اشارے سے مجھے منع کیا۔

بینظیر میری طرف مڑیں، ’ایف بی، کیا میں نے تمہیں نوٹس لینے کا کہا ہے؟‘
میں نے منمناتے ہوئے کہا، ’معذرت، بی بی۔‘
میں نے اپنی نوٹ بک فولڈ کرتے اور پین کو جیب میں ڈالتے ہوئے کہا ’یہ ایک تاریخی ملاقات ہے۔ دو سابق وزرائے اعظم سیاست میں مداخلت پر دل سے بات کر رہے ہیں۔ میں نے سوچا۔۔۔ میں معذرت خواہ ہوں۔‘
ان لمحات میں نواز شریف کافی متحرک تھے، ان کی آواز واضح تھی، تاثرات فطری تھے اور عزم شاندار تھا۔ وہ فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں برسوں کی شرمندگی، جلاوطنی اور بے چارگی کی گرد کو جھاڑ رہے تھے۔

ایسا لگ رہا تھا کہ بینظیر نے نواز شریف کی دکھتی رگ کو چھیڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ’حد ہو گئی ہے بی بی، بس اب ختم ہو جانا چاہیے۔‘
نواز شریف ایک دم خاموش ہو گئے۔ پھر ایک دم انہوں نے ڈنر ٹیبل سے ایک پلیٹ اٹھائی۔ اسے دونوں ہاتھوں سے یوں پکڑا جیسے وہ کوئی مقدس چیز ہو، اور ان (بینظیر) کے آگے یوں پیش کر دی جیسے کوئی پیشکش کر رہے ہوں۔ ایک سکوت تھا۔ میں یہ سب مبہوت ہو کر دیکھ رہا تھا۔
’بی بی، میں ان کے پاس جاؤں گا اور کہوں گا، یہ ہے آپ کا آئین اور یہ ہے آپ کا ملک اور آپ کے لوگ۔ آپ کریں جو کرنا چاہتے ہیں۔ میں اب کچھ نہیں کر سکتا۔ میں جا رہا ہوں۔ آپ ہی بھگتیں۔‘

پھر انہوں نے پلیٹ کو نیچے کیا اور واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔
بینظیر نے پوچھا: ’لیکن، میاں صاحب آپ کہاں جائیں گے، کیا کریں گے؟‘

انہوں نے جواب دیا ’میں ملک چھوڑ کر چلا جاؤں گا، واپس نہیں آؤں گا: وہ کریں جو کرنا چاہتے ہیں، لوگوں سے لڑیں، کسی سے لڑیں۔ یہ اس طرح نہیں چلے گا، میں اب اس کا حصہ نہیں بنوں گا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے