’عالمی میڈیا کی سب سے بڑی خبر‘ کو پاکستان کے بڑے اخبار نے ’دفن‘ کیوں کیا؟
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت ہو رہی ہے اور ہر چند گھنٹے بعد صورتحال تبدیل ہو رہی ہے-
اتوار کو سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ خلیج کی جنگ ختم کرنے کی بات چیت کے لیے پاکستان پہنچے ہیں۔ اسلام آباد میں چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس ہو رہا ہے۔
سنیچر کی شب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر پوسٹ کیا تھا کہ ایرانی حکومت نے پاکستانی پرچم کے تحت چلنے والے مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
بیان میں پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں آپ سب تک ایک اچھی خبر پہنچا رہا ہوں اور وہ یہ کہ ’ایران کی حکومت نے پاکستانی پرچم کے تحت مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے، اس اجازت کے بعد دو بحری جہاز روزانہ کی بنیاد پر آبنائے ہرمز عبور کریں گے۔‘
اسحاق ڈار کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایران کی جانب سے ایک خوش آئند اور قابل ستائش قدم ہے اور اس کی قدر کی جانی چاہیے۔ یہ امن کی علامت ہے اور خطے میں استحکام لانے میں مدد دے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک بامعنی قدم ہے اور اس سمت میں ہماری مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنائے گا۔‘
اسحاق ڈار نے ایکس پر جاری بیان کے آخر پر لکھا کہ ’مذاکرات، سفارت کاری اور اس طرح کے اعتماد سازی کے اقدامات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔‘
اس پوسٹ پر پاکستان کے انگریزی روزنامے ڈان سے وابستہ دفاع اور وزارت خارجہ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی باقر سجاد سید نے لکھا کہ ’سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وزیر خارجہ نے اس بیان میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، اور اُن کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ٹیگ کیوں کیا- یہ امریکہ کے لیے کس قسم کا اشارہ ہے؟‘
اس پر بلاول بھٹو کے سابق مشیر اور سینیئر صحافی و تجزیہ کار عمر آر قریشی نے لکھا کہ ’ڈان کے دفاع اور خارجہ امور کے صحافی بظاہر ایک غیرمحدود اور بے لگام یوتھیا کی مثال لگتے ہیں۔ یا وہ سمجھتے ہیں کہ آج وزیر خارجہ کو تنگ کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’ویسے بھی، اگر ایسی سوچ اور میلانات ڈان کی خلیج تنازع کی رپورٹنگ کو بھی رنگین اور متاثر کریں، تو مجھے حیرت نہیں ہوگی۔‘
عمر قریشی کو مزید تبصرے کا موقع پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اخبار کے صفحہ اول نے اتوار کی صبح اُس وقت فراہم کر دیا جب اہم ترین خبر کو کم اہمیت سمجھتے ہوئے نمایاں جگہ نہ دی اور اپنی ادارتی پالیسی کا رجحان بتایا-
سینیئر صحافی نے ڈان اخبار کا صفحہ اول پوسٹ کر کے اسحاق ڈار کی خبر کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ ’عالمی میڈیا سمجھتا ہے کہ یہ گزشتہ 24 گھنٹوں کی سب سے اہم نئی پیش رفت ہے۔‘
انہوں نے لکھا کہ اعتماد سازی کا اہم ترین اقدام ہے- ٹرمپ نے اس کو اپنے ٹرتھ سوشل اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا-
عمر قریشی نے صفحہ اول پر خبر کی جگہ کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اخبار نے اس خبر کو دفن کر دیا-
پاکستان میں سوشل میڈیا پر اسحاق ڈار کے بیان کو امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنے ٹرتھ سوشل پر پوسٹ کیے جانے کو بھی صارفین بڑے پیمانے پر شیئر کر کے اپنے ملک کی سفارتی میدان میں اہمیت جتا رہے ہیں-

