متفرق خبریں

اُم رباب چانڈیو کے اہلخانہ قتل کیس میں پیپلز پارٹی کے سردار بری، اسلحہ لہراتے جشن

مارچ 30, 2026
Umm e Rubab Chandio

اُم رباب چانڈیو کے اہلخانہ قتل کیس میں پیپلز پارٹی کے سردار بری، اسلحہ لہراتے جشن

سندھ کے ضلع دادو میں ہائی پروفائل تہرے قتل کیس میں ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے پیپلز پارٹی کے دو ارکان صوبائی اسمبلی سمیت تمام آٹھ نامزد ملزمان کو بری کر دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کے سرداروں نے بڑی گاڑیوں کے قافلے میں علاقے میں کلاشنکوف اور راکٹ لانچرز لہراتے ہوئے جشن منایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے-

پیر کی صبح دادو کی عدالت نے ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے قتل کے ہائی پروفائل کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔

فیصلے کے مطابق سردار احمد خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو سمیت کسی بھی ملزم پر جرم ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے تمام ملزمان کو باعزت بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سکندر علی، علی گوہر، سردار احمد خان، برہان خان، عبدالستار، ذوالفقار، غلام مرتضیٰ اور عبدالکریم عرف کریم بخش کو بری کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگرچہ تینوں افراد کرم اللہ، مختار احمد اور قابل حسین آتشیں اسلحے کے زخموں سے غیرطبعی موت مرے، لیکن استغاثہ ملزموں کے جرم کو کسی بھی معقول شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

یہ مقدمہ میہڑ کے تہرے قتل کیس کا تھا جو تقریباً 8 سال 3 ماہ تک عدالت میں زیرِِسماعت رہا۔ کیس کے دوران مجموعی طور پر 392 پیشیاں ہوئیں۔ مقتولین میں اُم رباب کے والد مختیار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو شامل تھے۔ ابتدا میں یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا گیا۔

سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار جب مئی 2018 میں سکھر کے دورے پر پہنچے تو اُم رباب اچانک سے ان کی گاڑی کے سامنے آئیں۔ اُم رباب کے مطابق سکھر میں چیف جسٹس نے عوام کے سامنے اعلان کیا تھا کہ وہ انصاف دلائیں گے اور دو ماہ میں مقدمے کا فیصلہ سنا دیا جائے گا، لیکن اس پر عمل در آمد نہیں ہو سکا۔

پھر جنوری میں تحریری طور پر حکم جاری کیا گیا کہ یہ مقدمہ تین ماہ کے اندر نمٹایا جائے کیونکہ اس میں انسداد دہشت گردی کے دفعات لگی ہوئی ہیں اور قانون کے مطابق یہ مقدمہ تین سے چھ ماہ میں مکمل ہونا چاہیے لیکن پھر بھی عمل نہ ہوا۔

اُم رباب نے مقدمے میں تاخیر پر خاموش احتجاج ریکارڈ کرایا، جس میں وہ ننگے پاؤں عدالت میں گئیں۔ سوشل میڈیا پر یہ تصویر بڑے پیمانے پر شیئر ہوئی اور لوگوں نے ام رباب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

بعد ازاں یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کے زمرے میں نہ آیا جس کے بعد اس کو ٹرائل کورٹ بھیجا گیا۔ جہاں یہ تقریباً چھ سال سے زیادہ عرصے زیرِسماعت رہا۔

فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج/ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ دادو کے جج حسین کلہوڑو نے ایک ماہ قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

فیصلہ سنانے سے قبل سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔

ضلع بھر کے 30 تھانوں کے ایس ایچ اوز، 6 ڈی ایس پیز اور 589 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ عدالت کے اطراف دو کلومیٹر تک ناکہ بندی کر کے سڑکیں سیل کی گئیں۔

فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مدعی ام رباب چانڈیو نے کہا کہ ان کے حوصلے بلند ہیں۔

ان کے وکیل صلاح الدین پنہور نے کہا کہ ماڈل کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے