سائنس اور ٹیکنالوجی

مصنوعی ذہانت کا سہارا لے کر تبصرہ کرنے والا معروف صحافی نیو یارک ٹائمز سے فارغ

اپریل 2, 2026

مصنوعی ذہانت کا سہارا لے کر تبصرہ کرنے والا معروف صحافی نیو یارک ٹائمز سے فارغ

بین الاقوامی شہرت کے حامل اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک فری لانس صحافی کے ساتھ معاہدہ اُس وقت ختم کر لیا جب یہ انکشاف ہوا کہ اُس نے ایک کتاب پر تبصرہ لکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا سہارا لیا تھا۔
اس کے تبصرے میں برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ میں شائع شدہ ایک ریویو کے اجزا شامل ہو گئے تھے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب نیو یارک ٹائمز کے ایک قاری نے بپٹسٹ اینڈریا کی کتاب ’واچنگ اوور ہر’ (Watching Over Her) پر الیکس پرسٹن کے لکھے گئے جنوری کے ریویو اور ’دی گارڈین‘ میں کرسٹوبل کینٹ کے لکھے گئے اگست کے ریویو کے درمیان مماثلت کی نشاندہی کی۔

نیو یارک ٹائمز نے اس حوالے سے تحقیقات شروع کیں جس کے دوران پرسٹن نے اعتراف کیا کہ اس نے ریویو لکھنے میں مدد لینے کے لیے اے آئی کا استعمال کیا تھا اور وہ اس کو شائع کروانے سے پہلے ان حصوں کی نشاندہی نہیں کر سکے جو گارڈین سے لیے گئے تھے۔

منگل کو دی گارڈین کو دیے گئے ایک بیان میں پرسٹن نے کہا کہ وہ اس پر ’بہت زیادہ شرمندہ‘ ہیں اور یہ کہ ان سے ایک ’سنگین غلطی‘ ہوئی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے پیر کو ایک ای میل کے ذریعے گارڈین کو اس مواد کے بارے میں آگاہ کیا اور ریویو کے ساتھ ایک ’ایڈیٹر نوٹ‘ کا اضافہ کر دیا جس میں اے آئی کے استعمال کا اعتراف اور گارڈین کے مضمون کا لنک دیا گیا ہے۔

ایڈیٹر نوٹ میں کہا گیا ’ایک قاری نے حال ہی میں ٹائمز کو الرٹ کیا کہ اس ریویو میں ایسی زبان اور تفصیلات شامل ہیں جو گارڈین میں شائع ہونے والے اسی کتاب کے ریویو سے ملتی جلتی ہیں۔ ہم نے اس مضمون کے مصنف سے بات کی جنہوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے ایک اے آئی ٹول استعمال کیا تھا جس نے گارڈین کے ریویو کا مواد ان کے ڈرافٹ میں شامل کر دیا جسے وہ پہچاننے اور ہٹانے میں ناکام رہے۔ ان کا اے آئی پر انحصار اور دوسرے مصنف کے کام کو حوالے کے بغیر استعمال کرنا ٹائمز کے معیار کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘

گارڈین کے ریویو سے چرائے گئے مواد میں کرداروں کی تفصیلات شامل ہیں جیسے کہ "lazy Machiavellian Stefano” کو نیویارک ٹائمز کے ورژن میں "lazy, Machiavellian Stefano” لکھا گیا تھا۔

اسی طرح ناول کا اختتامی تبصرہ بھی قریباً ہو بہو تھا جہاں گارڈین نے اسے تضادات سے بھرے ملک (اٹلی) کے لیے ایک ’محبت کا گیت‘ قرار دیا تھا اور نیویارک ٹائمز کے ورژن میں بھی وہی الفاظ استعمال کیے گئے۔

نیویارک ٹائمز کے ترجمان نے گارڈین کو بتایا کہ پرسٹن اب اس اخبار کے لیے مزید نہیں لکھیں گے۔
الیکس پرسٹن نے سنہ 2021 سے 2026 کے درمیان اخبار کے لیے چھ ریویوز لکھے لیکن انہوں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انہوں نے اپنے کسی دوسرے مضمون میں اے آئی کا استعمال نہیں کیا تھا۔

الیکس پرسٹن ’دی آبزرور‘ اور ’فنانشل ٹائمز‘کے لیے بھی لکھتے رہے ہیں اور وہ چھ کتابوں کے مصنف ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں برس کے شروع میں انہوں نے ایک سرمایہ کاری فرم کے لیے ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا: "The AI Bubble: Hidden Risks and Opportunities” (اے آئی ببل: پوشیدہ خطرات اور مواقع)

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے