لاہور رنگ روڈ حادثہ، مقدمے کے اندراج میں پولیس اہلکاروں کی غلط بیانی؟
پاکستان میں سوشل میڈیا پر لاہور رنگ روڈ کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں سفید رنگ کی ایک لینڈ کروزر کا ڈرائیور خطرناک انداز سے گاڑی چلا رہا ہے جو بے قابو ہو کر ساتھ گزرنے والی سیاہ رنگ کی ایک ہنڈا سوک کار سے ٹکرا جاتی ہے-
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق اس لینڈ کروزر کو مبینہ طور پر پولیس کے ایک انسپلٹر کا بیٹا چلا رہا تھا-
لاہور کے تھانہ کاہنہ میں درج کیے گئے مقدمے سے بھی اس شبے کو تقویت ملتی ہے کہ لینڈ کروزر کا ڈرائیور کسی بااثر شخص کو بیٹا ہے کیونکہ ایف آئی آر میں واضح طور پر غلط بیانی کی گئی ہے-
گاڑی کے حادثے کا شکار ہونے کی ویڈیو اب تک لاکھوں صارفین دیکھ چکے ہیں مگر ایف آئی آر میں اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا گیا ہے-
مقدمہ لاہور ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار جمیل احمد ولد سردار علی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے-
مدعی اہلکار نے لکھا ہے کہ وہ بسلسلہ ٹریفک کنٹرول سرکاری گاڑی پر ساتھی اہلکار شاہد کے ہمراہ بلوکی کے علاقے کاچھا انٹرچینج کی جانب موجود تھا جب ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر نمبر اے وائی ایل 914 بلوکی سے کاچھا انٹرچینج کی جانب انتہائی غفلت اور لاپرواہی سے زگ زیگ کرتی ہوئی آئی-
ٹریفک پولیس اہلکار کے مطابق اس نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا مگر وہ نہ رکی جس کو اپنے ساتھی اہلکار کی مدد سے بمشکل قابو کیا اس سے پہلے کہ یہ عوام کے لیے شدید حادثے کا باعث بن جاتی-
ایف آئی آر کے مطابق لینڈ کروزر کے ڈرائیور کا نام محمد علی شاہ ولد ابرار شاہ صاحب ہے- مزید لکھا گیا ہے کہ ڈرائیور کا نام و پتہ اس کے دوست سے معلوم ہوا جبکہ ڈرائیور محمد علی خود وہاں سے فرار ہو گیا-
پٹرولنگ آفیسر رنگ روڈ جمیل احمد کی مدعیت میں یہ مقدمہ رات نو بجے درج کیا گیا ہے جبکہ حادثہ دن کے وقت پیش آیا تھا-
مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 279 لگائی گئی ہے جو خطرناک طریقے سے گاڑی چلانے پر دو سال قید یا تین ہزار روپے جرمانے یا دونوں سزائیں دلا سکتی ہے-
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق درج کی گئی ایف آئی آر میں واضح طور پر بددیانتی نظر آ رہی ہے کیونکہ گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور اس نے ساتھ گزرتی گاڑی کو بھی تباہ کر دیا مگر پٹرولنگ افسر نے مقدمے میں لکھوایا ہے کہ اپنے ساتھی اہلکار کے ہمراہ گاڑی کو روکا (قابو کیا)- اسی طرح ملزم ڈرائیور اس حادثے کے بعد بآسانی فرار ہو گیا جس کا مطلب ہے کہ پولیس اس کو گرفتاری سے بچانا چاہتی تھی-
ایف آئی آر میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک اور غلطی ہے اس شک کو تقویت دیتی ہے کہ ملزم ڈرائیور کے والد کے نام کے ساتھ صاحب لکھا گیا ہے-

