اہم خبریں

’میں امریکی اخبارات کو مرنے سے بچاؤں گا‘، ایک ارب پتی کی انوکھی مہم

اپریل 7, 2026

’میں امریکی اخبارات کو مرنے سے بچاؤں گا‘، ایک ارب پتی کی انوکھی مہم

امریکہ کے صحافتی حلقوں میں ان دنوں ایک ہی نام گردش کر رہا ہے اور وہ ہے ڈیوڈ ہوفمین۔
ایک ایسے وقت میں جب ڈیجیٹل میڈیا کی یلغار، اور گرتی ہوئی آمدنی نے روایتی اخبارات کو دم توڑنے پر مجبور کر دیا ہے، فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے اس ارب پتی نے ایک ایسا دعویٰ کیا جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

ڈیوڈ ہوفمین، جو ’ہوفمین فیملی آف کمپنیز‘ کے بانی ہیں، اب صرف ریئل اسٹیٹ یا مینوفیکچرنگ کے ٹائیکون نہیں رہے بلکہ وہ امریکی اخبارات کی ڈوبتی کشتی کے لیے ایک ’نجات دہندہ‘ بن کر سامنے آئے ہیں۔
فوربز میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ڈیوڈ ہوفمین نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ مقامی صحافت کے روایتی ڈھانچے کو نہ صرف بچائیں گے بلکہ اسے دوبارہ منافع بخش بنائیں گے۔

بچپن کا قرض اور اخبار سے محبت
ڈیوڈ ہوفمین کے لیے یہ محض بزنس ڈیل نہیں بلکہ ایک جذباتی وابستگی ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ میزوری کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پلنے بڑھنے کے دوران، مقامی اخبار نے ان کی زندگی کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ کہتے ہیں ’میں اپنے قصبے کی ٹیم کا کوارٹر بیک تھا اور لوگ ہمیں اس لیے جانتے تھے کیونکہ مقامی اخبار ہماری خبریں چھاپتا تھا۔ آج جب میں ان اخبارات کو بند ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ جیسے امریکی کمیونیٹیز کی روح قبض کی جا رہی ہے۔‘

ہوفمین کا ’بزنس ماڈل‘ کیا ہے؟
عام طور پر جب بڑی کمپنیاں اخبارات خریدتی ہیں تو وہ اخراجات کم کرنے کے لیے عملے کو فارغ کر دیتی ہیں لیکن ڈیوڈ ہوفمین کا طریقہ مختلف ہے۔ ان کی حکمت عملی کے تین بڑے ستون ہیں:
1. قرضوں سے چھٹکارا: انہوں نے اخبارات کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے ان پر واجب الادا بھاری سود والے قرضوں کو ختم کیا یا ان کی شرح کم کی تاکہ بچنے والا پیسہ نیوز روم پر خرچ ہو سکے۔
2. مقامی خبروں پر توجہ: ڈیوڈ ہوفمین کا ماننا ہے کہ لوگ واشنگٹن کی خبروں کے لیے اخبار نہیں خریدتے۔ ان کا زور ہائی سکول کے کھیلوں، مقامی اموات کے اشتہارات اور شہر کے چھوٹے مسائل پر ہے جسے وہ ’ہائپر لوکل‘ صحافت کہتے ہیں۔

3. مثبت رپورٹنگ: ڈیوڈ ہوفمین کے اس نظریے نے صحافتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے کہ اخبار کو اپنے علاقے کا ’چیئر لیڈر‘ ہونا چاہیے۔
4. ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم صرف منفی خبریں چھاپیں گے تو لوگ ہم سے دور ہوں گے۔‘

صحافت یا تشہیر؟ ایک نئی بحث
جہاں بہت سے لوگ ڈیوڈ ہوفمین کو ایک مسیحا کے طور پر دیکھ رہے ہیں، وہاں ناقدین پریشان بھی ہیں۔

روایتی صحافیوں کا کہنا ہے کہ اخبار کا کام ’واچ ڈاگ‘ کا ہوتا ہے نہ کہ حکومت یا کاروباری اداروں کی تعریفیں کرنا۔
لیکن ڈیوڈ ہوفمین ان اعتراضات سے بے نیاز ہیں۔ ان کا موقف سادہ ہے ’ایک بند ہو جانے والا اخبار کسی کا احتساب نہیں کر سکتا۔‘

ڈیوڈ ہوفمین اب تک ’لی انٹرپرائزز‘ جیسے بڑے گروپس سمیت درجنوں اخبارات میں بھاری سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔
کیا ایک ارب پتی کا سرمایہ اور ’مثبت صحافت‘ کا نظریہ دم توڑتے کاغذ کو نئی زندگی دے پائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے چند برسوں میں امریکی میڈیا کی سمت طے کرے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے