لاہور میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا ریپ اور جنسی بیمار ذہنیت کی عکاس ایف آئی آر کا متن
علی ارقم
لاہور میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر اور اس کی دوست کے ساتھ ہونے والے بھیانک جرم یعنی ریپ کی سوشل میڈیا پر آنے والی تفصیلات، پنجاب پولیس کے نظام اور ان کے کاسہ لیس صحافیوں کی اخلاقی دیوالیہ پن کی ایک اور مثال ہے
ہمارے معاشرے میں جنسی تشدد کا مسئلہ صرف جرم تک محدود نہیں بلکہ جرم کے بعد شروع ہونے والا پورا ادارہ جاتی اور سماجی عمل اکثر متاثرہ شخص کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر دیتا ہے۔
یہاں بات صرف اس ایک واقعے کی نہیں بلکہ اس پورے طریقے کی ہے جس میں ایسا ہر کیس ریاست، پولیس، میڈیا اور سوشل میڈیا کے درمیان سفر کرتا ہے۔
جب متاثرہ خواتین پولیس کے پاس گئیں تو ان کی شکایت درج نہیں کرتی بلکہ وہاں موجود جنسی طور پر بیمار ذہنیت کے حامل سرکاری اہلکار انہیں اپنے ساتھ پیش آنے والے انتہائی تکلیف دہ تجربے کو دوبارہ لفظوں میں ری لائیو کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ جنسی حظ اٹھاتے ان سرکاری اہلکاروں کے بیہودہ سوالات و اشاروں کے جواب میں انہیں پھر سے وہ بھیانک اور دردناک تجربہ بیان کرنا پڑا
یہ بیان پھر ایف آئی آر کی شکل اختیار کرتا ہے، جو ایک قانونی دستاویز بن جاتی ہے یعنی ایک انسانی تجربہ ریاستی زبان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یعنی جذبات، خوف، شرمندگی اور صدمہ ایک ایسے قانونی متن میں ڈھل جاتا ہے جو بظاہر تو ریکارڈ کیلئے ہے اور جو احساس و ہمدردی سے عاری ہے
پھر ایف آئی آر کی کاپی یعنی جرم کی تفصیلات اپنے کسی کاسہ لیس صحافی کے ہاتھوں لیک کر دی جاتی ہیں اور میڈیا یا سوشل میڈیا تک پہنچ جاتی ہیں۔
وہی واقعہ جو ایک عورت کے لیے اذیت ناک انفرادی صدمہ تھا، ایک عوامی بحث بن گیا۔ اس بحث میں اس کی شناخت، اس کا کردار اور اس کی نجی زندگی موضوع بن گئی ہے۔ یعنی وہ شخص جو انصاف لینے نکلا تھا، وہی عوامی سکروٹنی کا مرکز بن گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس کے بعد ایک اور پرت آتی ہے۔ یہاں لوگ فوری رائے قائم کرتے ہیں، کوئی ہمدردی کرتا ہے اور کوئی شک پیدا کرتا ہے۔ کیس عدالت سے پہلے ہی “سچ اور جھوٹ” کی جنگ میں بدل جاتا ہے۔
سوشل میڈیا میں جرم کو جرم تب مانا جاتا ہے، حادثہ تب ہمدردی کی لہر پیدا کرتا ہے جب اس کی ویڈیو فوٹیج موجود ہو، پولیس نے ایف آئی آر میں درج گرافک تفصیلات شامل کرکے اس کی تصویر کشی کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ بھی شاید اس خواہش کی عکاس ہے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہیں، آج یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور ایف آئی آر کے مندرجات اکثر لوگ پڑھ چکے ہیں
ایسے جرائم کے بعد اس پورے عمل کی تکرار اور تسلسل اکثر جنسی جرائم کا شکار افراد کو رپورٹ کرنے سے روک دیتا ہے، کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ رپورٹنگ کے بعد ہمدردی نہیں بلکہ مغلظات کا ایک نیا طوفان شروع ہو جانا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان جیسے معاشروں میں جنسی تشدد کے کیسز کی رپورٹنگ کی شرح پہلے ہی کم ہے۔ مجموعی طور پر ستر فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے، کیونکہ لوگ بدنامی، سماجی دباؤ اور عدم اعتماد کی وجہ سے پولیس تک نہیں جاتے۔ اور جو کیس رپورٹ ہو جائیں، ان میں سے بھی بہت کم سزا تک پہنچتے ہیں یعنی صرف دو سے پانچ فیصد
اس جرم کا ارتکاب کرنے والے تو لازم ہے کہ قرار واقعی سزا کے مستحق ہیں لیکن ایف آئی آر درج کرنے کے والے سرکاری اہلکار بھی تادیبی کارروائی سے نہیں بچنے چاہییں-
اس واقعے کو زیادہ علمی پیرائے میں دیکھا جائے تو یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پولیس کا ادارہ یا اہلکار کسی سماجی خلا میں کام نہیں کرتے۔ وہ اسی سماجی شعور کا حصہ ہوتے ہیں جس میں جنس، اخلاقیات، اور خواتین کی سماجی موجودگی پہلے سے مخصوص تصورات کے تحت سمجھی جاتی ہے۔ اسی لیے ایف آئی آر محض ایک نیوٹرل ڈاکیومنٹ نہیں بلکہ اس میں سماجی و انفرادی رجحانات اور مفروضے بھی در آتے ہیں جو یہ طے کرتے ہیں کہ واقعہ کیسے بیان ہوگا اور کس زاویے سے دیکھا جائے گا۔
پولیس اہلکاروں کا خاتون سوشل میڈیا انفلوئنسر کے بارے میں عمومی تاثر ہی ہے جنہوں نے ان کی پرائیویسی کا لحاظ نہ کرنے، ان کی شناخت کو خفیہ نہ رکھنے اور ایف آئی آر کی کاپی پبلک کرنے سے منع نہیں کیا
یہ مسئلہ صرف قانونی یا ادارہ جاتی نہیں، موجودہ ڈیجیٹل معیشت میں اٹینشن یا توجہ، ردعمل یعنی لائکس اور ویورشپ اس کیلئے نمائش بنیادی کرنسی بن چکے ہیں۔ اس نظام میں وہی مواد زیادہ مؤثر ہوتا ہے جو فوری، جذباتی اور بصری ردعمل پیدا کرے۔ نتیجتاً انسانی تجربہ، جو پہلے نسبتاً نجی اور پیچیدہ تھا، اب مسلسل پبلک اسکرین پر منتقل ہو رہا ہے۔
خواتین کے لیے اس کا حصہ بننا انہیں معاشی اور سماجی مواقع فراہم کرتا ہے، ان کی جن سرگرمیوں کی بنا پر انہیں توجہ اور ویورشپ ملتی ہے، انہی سرگرمیوں کو اخلاقی پیمانے پر پرکھا بھی جاتا ہے اور ان کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا جاتا ہے، اس لیے خواتین کی سوشل میڈیا پر شہرت اور پہچان ایک دو دھاری تلوار بن جاتی ہے، یہ اسے شناخت بھی دیتی ہے اور اُن کے لیے خطرات بھی بڑھا دیتی ہے۔
اس تناظر میں متاثرہ خاتون سوشل میڈیا انفلوئنسر کے ساتھ پولیس کا رویہ سمجھا جاسکتا ہے اور بڑی حد تک سوشل میڈیا ردعمل بھی اس طرز فکر کا آئینہ دار ہے۔

