آشا بھوسلے کے وہ گہرے زخم جو صرف موسیقی میں ہی چھپے رہے
انڈیا کی شہرت یافتہ گلوکارہ آشا بھوسلے کی بیٹی ورشا بھوسلے کا شمار انڈیا کے ممتاز انگریزی کالم نگاروں اور صحافیوں میں ہوتا تھا لیکن ان کی اچانک موت نے برصغیر کی لیجنڈری گلوکارہ کو زندگی کے اس تاریک ترین موڑ پر لا کھڑا کیا جہاں سے واپسی کا راستہ صرف موسیقی ہی دکھا سکتی تھی۔
ورشا بھوسلے محض ایک گلوکارہ کی بیٹی نہیں تھیں بلکہ وہ اپنی فکر اور کاٹ دار تحریروں کی وجہ سے صحافتی حلقوں میں ایک معتبر مقام رکھتی تھیں۔
انہوں نے ’دی سنڈے آبزرور‘ اور ’ریڈف (Rediff)‘ جیسے بڑے پلیٹ فارمز کے لیے برسوں تک کالم لکھے اور سماجی و سیاسی موضوعات پر بے باک رائے زنی کی۔
سنہ 1956 میں پیدا ہونے والی ورشا نے اپنی والدہ سے گلوکاری کے گر بھی سیکھے، مگر ان کی پہچان ان کا قلم بنا۔
آٹھ اکتوبر 2012 کی صبح ممبئی میں آشا بھوسلے کی رہائش گاہ سے ایک ایسی خبر نکلی جس نے پوری انڈسٹری کو لرزا کر رکھ دیا۔
56 سالہ ورشا بھوسلے نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ اس وقت آشا بھوسلے سنگاپور میں ایک پروگرام کے لیے گئی ہوئی تھیں جہاں انہیں اپنی اکلوتی بیٹی کی خودکشی کی اطلاع ملی۔
معاشی جریدے ’اکنامک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ورشا طویل عرصے سے ڈپریشن (ذہنی دباؤ) کا شکار تھیں۔ قریبی دوستوں خصوصاً مشہور فوٹوگرافر گوتم راجادھیکشا کی موت نے ان کی تنہائی اور اداسی کو مزید گہرا کر دیا تھا جو بالآخر اس المناک حادثے پر منتج ہوا۔

آشا بھوسلے جو اپنے خاندان کو اپنی ’ریڑھ کی ہڈی‘ قرار دیتی تھیں، اس صدمے سے ابھی سنبھل بھی نہ پائیں تھیں کہ تین برس بعد 2015 میں ان کے بڑے بیٹے ہیمنت بھوسلے کینسر کے باعث چل بسے۔
یکے بعد دیگرے دو جواں سال اولادوں کو کھونے کے بعد آشا مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھیں۔
اس مشکل وقت میں ان کے بھائی (ہردیہ ناتھ بھوسلے) کے تسلی بخش الفاظ اور خاندانی ورثے میں ملی موسیقی نے ان کا ہاتھ تھاما۔
آشا کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ موسیقی ہی وہ واحد سہارا تھی جس نے انہیں دوبارہ مائیکروفون کے سامنے کھڑا ہونے اور زندگی کی طرف لوٹنے کا حوصلہ دیا۔
آشا بھوسلے اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک ان صدموں کو دل میں بسائے 12 اپریل 2026 کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں-

