مذاکرات میں ’پیش رفت‘ مگر ’ابھی کسی حتمی معاہدے سے بہت دور‘: ایران
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ’پیش رفت‘ ہوئی ہے، لیکن ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’ہم نے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے لیکن ابھی بھی بہت سے خلا اور کچھ بنیادی مسائل ہیں جو حل طلب ہیں۔‘
ہفتہ قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شریک قالیباف نے مزید کہا کہ ’ہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے سے بہت دور ہیں۔‘
ایرانی پارلیمان کے سپیکر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران، 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے یہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی بات چیت تھی جس میں ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ’امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔‘
اُنھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو ایرانی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا فیصلہ کرنا ہو گا اور انھیں ڈکٹیشن مسلط کرنے کا اپنا طریقہ کار ترک کرنا ہو گا۔‘
قالیباف نے امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’اگر ہم نے جنگ بندی کو قبول کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اُنھوں نے ہمارے مطالبات کو تسلیم کیا ہے۔ کیونکہ ہم نے زمین پر فتح حاصل کی۔‘
قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اپنے مفادات حاصل نہیں کر سکا اور یہ ایران ہی ہے جو آبنائے ہرمز پر اپنا سٹریٹجک کنٹرول رکھتا ہے۔
ادھر بحرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اسے مکمل معاوضہ ادا کیا جائے۔
اقوام متحدہ میں بحرین کے مستقل مشن کی طرف سے بین الاقوامی تنظیم کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ’سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی مسلسل خلاف ورزی کی، جس میں خلیجی ممالک میں حملے روکنے کا کہا گیا تھا۔‘
بحرین کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ’بحرین میں شہری اہداف اور اہم تنصیبات کو ایران کی جانب سے جان بوجھ کر نشانہ بنانہ تشویشناک ہے۔ کیونکہ ان حملوں سے شہریوں اور رہائشیوں کی زندگیوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔‘

