’اچھی بات چیت‘ جاری مگر ایران کو آبنائے ہرمز پر ’بلیک میلنگ‘ نہیں کرنے دیں گے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ جاری ہے۔ لیکن وہ تہران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر ’بلیک میل‘ نہیں کرنے دیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران گذشتہ 47 سال سے ایسا ہی کرتا آیا ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ’ایران کے ساتھ ہمارا لین دین 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔‘
ادھر روس نے کہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کے لیے تیار ہے۔
روسی ریاستی جوہری توانائی ادارے روساٹم کے سربراہ الیکسی لیکاچیف کے مطابق، روس اس بات پر غور کر رہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ بیان روساٹم کی صنعتی اشاعت ’اسٹرانا روساٹم‘ کے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہوا ہے۔
الیکسی لیکاچیف نے کہا کہ اس معاملے میں تکنیکی مسائل کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے روس کو ایرانی فریق کے ساتھ تعاون کا مثبت تجربہ حاصل ہے۔ 2015 میں ایران کی درخواست پر روس نے پہلے ہی افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کی تھی، اور اب بھی ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘
دوسری جانب دو روز قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے اور تہران تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔
ادھر مارچ کے آغاز میں روساٹم نے ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ سے اپنے عملے کو واپس بلانا شروع کر دیا تھا، جبکہ وہاں جاری تعمیراتی کام بھی روک دیا گیا تھا۔

