اہم خبریں

پاکستان میں انسانی حقوق 2025: ’ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور کچلی ہوئی آوازیں‘

مئی 4, 2026

پاکستان میں انسانی حقوق 2025: ’ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور کچلی ہوئی آوازیں‘

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے سال 2025 کے لیے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملک بھر کے تمام انتظامی یونٹس بشمول پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس ریاست کی جانب سے ’سکیورٹی اور نظم و ضبط‘ برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور شہریوں کے آئینی حقوق کے درمیان خلیج مزید وسیع ہوئی ہے۔
پنجاب، جہاں حکومت نے ’سیف سٹی‘ اور جرائم کے خاتمے کے بلند و بانگ دعوے کیے، وہاں انسانی حقوق کے کارکنوں نے مبینہ پولیس مقابلوں میں غیر معمولی اضافے پر خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں ’کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ‘ (سی سی ڈی) کے قیام کے بعد اپریل سے دسمبر کے درمیان 707 پولیس مقابلے ہوئے جن میں 977 افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ان سینکڑوں مقابلوں میں صرف دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ان واقعات کی شفافیت اور قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہے جس کی وجہ سے مبصرین اسے ماورائے عدالت قتل کے ایک منظم سلسلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اسی طرح پنجاب خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے معاملے میں بھی ملک کا سب سے متاثرہ خطہ ثابت ہوا جہاں مجموعی ملکی واقعات کا 78 فیصد رپورٹ ہوا۔
ان میں ریپ کے 4089 اور اغوا کے 24000 سے زائد کیسز درج ہوئے جو صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔

سندھ اور بالخصوص کراچی میں جہاں اسٹریٹ کرائم نے شہریوں کا جینا محال کیے رکھا، وہیں توہینِ مذہب کے الزامات پر ہجوم کے ہاتھوں قانون ہاتھ میں لینے کے واقعات نے انسانی حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریاست کی جانب سے ہجوم کو روکنے میں ناکامی نے شہریوں کے تحفظ کے احساس کو بری طرح مجروح کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں صورتحال سکیورٹی کے گرد گھومتی رہی، جہاں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز دونوں کو نشانہ بنایا۔
ایچ آر سی پی کے مطابق دہشت گردی کی اس نئی لہر نے صوبے کے سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عوام میں عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے رپورٹ میں جبری گمشدگیوں کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

سنہ 2025 میں بھی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) جیسی عوامی تحریکوں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جیسی قیادت کے خلاف مقدمات نے وفاق اور صوبے کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ کو مزید ہوا دی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان جو اکثر قومی میڈیا کی توجہ سے اوجھل رہتے ہیں، وہاں بھی عوامی حقوق کی پامالیوں کی گونج سنائی دی۔
کشمیر میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران ریاستی طاقت کے استعمال اور جانی نقصان نے وہاں کی انتظامیہ کے جمہوری چہرے پر دھول جھونکی جبکہ گلگت بلتستان میں مقامی حقوق اور سیاسی محرومیوں کے خلاف آوازوں کو دبانے کی کوششیں جاری رہیں۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ کا ایک بڑا حصہ اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغنوں کے نام رہا۔
پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے ترمیمی قانون کو ’فیک نیوز‘ کے نام پر سیاسی مخالفین اور صحافیوں کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ پاکستان عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں مزید چھ درجے گر کر 158 ویں پوزیشن پر آ گیا ہے جو ملک میں سکڑتی ہوئی صحافتی آزادیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
ایچ آر سی پی نے اپنی اس جامع دستاویز کے ذریعے ریاست کو متنبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی مسلسل پامالی اور آئینی ضمانتوں سے انحراف نہ صرف ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر رہا ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر بھی تنہائی کا شکار کر سکتا ہے۔

رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ پائیدار معاشی ترقی اور امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب ریاست اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے