اہم

امریکی رویہ ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کے مترادف، ایرانی صدر کی فرانسیسی صدر سے گفتگو

مئی 7, 2026

امریکی رویہ ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کے مترادف، ایرانی صدر کی فرانسیسی صدر سے گفتگو

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ امریکی رویہ ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کے مترادف ہے-

ایرانی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ واشنگٹن کے طرزِ عمل نے سفارتکاری کا رخ خطرات، دباؤ اور پابندیوں کی جانب موڑ دیا ہے، جس کے باعث ایران امریکہ پر اعتماد نہیں کر سکتا۔

ایرانی صدر کے بیان کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے دو مرتبہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا، مگر ہر بار ان مذاکرات کے ساتھ ہی ایران کے خلاف فوجی جارحیت بھی کی گئی۔ ان کے بقول ’ایسا طرزِ عمل درحقیقت پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ کسی بھی مؤثر مذاکرات کے لیے جنگ کا خاتمہ اور اس بات کی ضمانت ضروری ہے کہ مستقبل میں ایران کے خلاف دوبارہ کوئی معاندانہ کارروائی نہیں کی جائے گی۔

صدر مسعود پزشکیان نے متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی مسلح افواج کوئی عسکری اقدام کرتی ہیں تو اس کا واضح اعلان کیا جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے اس آبی گزرگاہ کی سلامتی کا ضامن رہا ہے، تاہم امریکی اقدامات، جن میں بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے، خطے کے استحکام میں خلل کا باعث بنے ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے سے متعلق کسی بھی مذاکرات کے لیے امریکہ کی عائد کردہ بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ضروری ہے۔

بیان کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے جنگ بندی کے فریم ورک کی حمایت کا اظہار کیا اور تسلیم کیا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی اور لبنان پر اسرائیلی حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فرانس مذاکرات کو آگے بڑھانے اور تہران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے عمل میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے