وکلا کی لڑائی کے بہانے کراچی بار ایسوسی ایشن کے الیکشن پھر ملتوی، اصل وجہ کیا؟
معروف قانون دان بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ جب سے کراچی بار (وکلا کی تنظیم) نے گزشتہ سال سندھ میں نئے نہری منصوبوں، عسکری فارمز اور ۲۶ و ۲۷ وی آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج کی پیروی کی تو مقتدر حلقوں نے اس کو غیرفعال کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔
اُن کا کہنا ہے کہ پانچ مہینوں سے کراچی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کسی نہ کسی بہانے سے ملتوی کیے جا رہے ہیں اور ایک غیرمنتخب حکومت دوست کمیٹی کو اُس پر بٹھایا گیا ہے۔
بیرسٹر صلاح الدین احمد نے ایکس پر لکھا کہ افسوس کہ اس عمل میں سندھ بار کونسل اور پاکستان بار کونسل کے ارکان کی اکثریت شامل ہے اور سندھ ہائی کورٹ نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔
بیرسٹر صلاح الدین اس خبر پر ردعمل دے رہے تھے جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی بار ایسوسی کے انتخابات آج ایک بار پھر ملتوی کر دیے گئے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا رہا ہے کہ انتخابات کی نگرانی کرنے والی سندھ بار کونسل کے دفتر کو بھی تالا پڑا ہے۔
کراچی سے صحافی محمد اصغر نے اس کی ویڈیو پوسٹ کر کے لکھا کہ سوال یہ ہے کہ کیا پہلے ہی اس صورتحال کی منصوبہ بندی کی گئی تھی؟
اس سے قبل وکیل عبدالمعز جعفری نے ایکس پر پوسٹ کیا تھا کہ وہ صبح ووٹ کاسٹ کرنے گئے تھے مگر بتایا گیا کہ وکلا گروپس میں لڑائی کے باعث پولنگ روک دی گئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ بار کی سابق نائب صدر رابعہ باجوہ ایڈووکیٹ نے کراچی بار کے الیکشن کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ‘سندھ کے وکلاء نے مزاحمتی جدوجہد کی نئی تاریخ رقم کی ہے- آئینی ترامیم اور چھ کینال سمیت بنیادی حقوق کی تحریک میں سندھ کے وکلا کا قائدانہ کردار ہے اور وہاں کی قیادت حسیب جمالی، صدر کراچی ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور عامر نواز وڑائچ، صدر کراچی بار ایسوسی ایشن ایک مضبوط قیادت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں-‘
رابعہ باجوہ کا کہنا تھا کہ کراچی ہار کے انتخاب میں عامر نواز وڑائچ صاحب کو صدارت کے منصب سے دور رکھنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے ہر حربہ استعمال کر لیا ہے اور آج پھر دھاندلی کی کوشش کی جسے وکلاء نے ناکام بنا دیا-
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ‘پاکستان میں اس وقت الیکشن چور آمرانہ قوتیں نظام پر مسلط ہیں، پہلے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا، اب پاکستان کے سب سے توانا مزاحمتی کیڈر، وکلاء تنظیموں پر حملہ آور ہیں- کراچی کے وکلاء مسلسل اپنے مینڈیٹ کی حفاظت کے لیے کھڑے ہیں، کراچی کے وکلاء ہمارا فخر ہیں-‘

