لڑکی نے دوست سے مل کر سابق دوست کو اغوا اور قتل کرایا: اسلام آباد پولیس
اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر کے مہنگے سیکٹر ایف سکس سے پراپرٹی ڈیلر فرخ افضل کے اغوا اور قتل کے کیس کو حل کرتے ہوئے ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمان خیبر پختونخوا پولیس کا ایک کانسٹیبل اور اُس کی 19 سالہ دوست لڑکی ہیں۔
ملزمہ کو گرفتاری کے بعد عدالت سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا جبکہ ملزم سیف اللہ کو سوات سے گرفتار کر کے وہاں کی عدالت راہداری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد منتقل کیا گیا ہے۔
نوجوان پراپرٹی ڈیلر کو گھر سے اُٹھائے جانے پر اسلام آباد پولیس نے ابتدائی طور پر مغوی کے والد کی درخواست پر اغوا برائے تاوان کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
پولیس کے مطابق منگل کو ملزمان کی نشاندہی پر مغوی کی لاش خیبر پختوانخوا کے ضلع مردان کے ایک ویرانے سے برآمد کر لی گئی تھی۔
پراپرٹی ڈیلر فرخ افضل کے اغوا کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا تھا۔
مقتول فرخ افضل کے والد نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ چار مئی کی شب اپنے گھر پر سو رہے تھے کہ اچانک باہر سے شور کی آواز سنائی دی۔
اور جب باہر نکل کر دیکھا تو چند نامعلوم افراد کالے رنگ کی ایک گاڑی میں ان کے بیٹے کو زبردستی بٹھا کر لے جا رہے تھے۔
پولیس کے مطابق اغوا کے بعد فرخ افضل کے فون کالز کا ڈیٹا نکالا گیا جس سے تفتیشی ایک لڑکی تک پہنچے۔
واقعے کی تفتیش کے دوران اغوا کاروں گاڑی کی لوکیشن ای ٹیگ سے معلوم کی گئی کیونکہ گاڑی پر نمبر پلیٹ جعلی تھی۔
پولیس کو سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ اغواکاروں کی گاڑی موٹر وے پر صوابی انٹرچینج سے باہر نکلی تھی۔

