ایران کا ’ایکس‘ پر جانبداری کا الزام، وزارتِ خارجہ کے بعد ترجمان کا بلیو ٹک بھی ہٹا دیا گیا
ایران اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) کے درمیان تناؤ میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا ہے جب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے اکاؤنٹ سے بھی تصدیقی نشان یعنی بلیو ٹک ہٹا دیا گیا۔
ایرانی حکام نے اس اقدام کو ’امریکی ڈیجیٹل قزاقی‘ اور سنسرشپ قرار دیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے اپنے باضابطہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ ’ایکس‘ نے پہلے وزارتِ خارجہ اور وزیرِ خارجہ کے اکاؤنٹس سے بلیو ٹک ہٹائے تھے اور اب یہی کارروائی وزارت کے ترجمان کے اکاؤنٹ کے ساتھ بھی دہرائی گئی ہے۔
’پریمیم پلس کی ادائیگی کے باوجود کارروائی‘
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے لکھا ’وزارتِ خارجہ اور وزیرِ خارجہ کے تصدیق شدہ بیجز (بلیو ٹک) چھیننے کے بعد، اب ’ایکس‘ نے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے اکاؤنٹ سے بھی بلیو ٹک ہٹا دیا ہے۔ یہ کارروائی ہماری جانب سے ’پریمیم پلس‘ کی مکمل ادائیگیوں کے باوجود کی گئی ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے اس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے یک طرفہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ من مانی ڈی ویریفکیشن ‘ایکس’ کی مخصوص سنسرشپ اور ’مریکی ڈیجیٹل قزاقی‘ (Digital Piracy) کے اس سلسلے کا حصہ ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی جنگ کے بارے میں سچائی کو دبانا ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی مغربی سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے ایرانی حکام یا سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس کے خلاف اس طرح کی کارروائی کی ہو۔
ماضی میں بھی تہران اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان ڈیجیٹل اسپیس میں سرد جنگ دیکھی گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سیاسی و معاشی کشیدگی اب ڈیجیٹل محاذ پر بھی کھل کر سامنے آ رہی ہے جہاں ایران کا موقف دنیا تک پہنچانے والے سرکاری ذرائع کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
تاہم ’ایکس‘ کی انتظامیہ یا اس کے مالک ایلون مسک کی جانب سے اب تک ان ایرانی اکاؤنٹس سے بلیو ٹک ہٹانے کی کوئی باقاعدہ وجہ یا وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

