سابق وزیراعظم عمران خان ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ کا فلیٹ بیچ چکے ہیں، سی ڈی اے ریکارڈ
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ نامی متنازع عمارت میں فلیٹس رکھنے والے مالکان اس وقت خبروں میں ہیں اور ان میں سب سے اوپر سابق وزیراعظم عمران خان کا نام آتا رہا ہے لیکن اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ اپنا فلیٹ بیچ چکے ہیں-
معتبر اخبار روزنامہ ڈان سے وابستہ صحافی کاشف علی عباسی نے اپنے یوٹیوب چینل پر یہ خبر دی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ کا فلیٹ بیچ چکے ہیں اور یہ وفاقی ترقیاتی اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے-
کاشف علی عباسی کی خبر کے مطابق یہ فلیٹ شاہد نصیر نامی شخص کے نام سنہ 2022 میں منتقل کیا گیا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کس مہینے میں بیچا گیا کیونکہ عمران خان کی حکومت اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ختم ہو گئی تھی-
اس کے علاوہ دستاویزات میں سیل ڈیڈ میں اس کی رقم کا بھی ذکر نہیں کہ عمران خان نے یہ فلیٹ کتنی رقم میں فروخت کیا-
کاشف علی عباسی نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سنہ 2021 سے سنہ 2025 کے دوران ’ون کانسٹیٹوشن ایونیو‘ میں 80 افراد نے فلیٹ خریدے-
خیال رہے کہ یہ عمارت کروڑوں روپے مالیت کے رہائشی اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے جن کے مالکان میں پاکستان کے سیاستدان، بیوروکریٹس اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والے بڑے نام شامل ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ون کانسٹیٹوشن ایونیو کے ’ٹوئن ٹاورز‘ خبروں میں ہیں اور اس کی وجہ اسلام آباد کی انتظامیہ کی جانب سے عمارت خالی کروائے جانے کے لیے کیا جانے والا آپریشن بنی ہے۔
سی ڈی اے کی جانب سے مکینوں کو عمارت خالی کرنے کے لیے ابتدائی طور پر جمعے تک کی مہلت دی گئی تاہم اب پرائم منسٹر آفس کے مطابق وزیراعظم کے اس معاملے پر حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی طرف سے کسی بھی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی.
وزیراعظم آفس کا کہنا ہے وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدیات پر ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ایک ہفتے میں پورے معاملے کا جائزہ لے کر وزیرِ اعظم کو رپورٹ پیش کرے گی.
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق اس دوران اس معاملے میں کوئی بھی متاثرہ شخص اپنی معروضات کمیٹی کو پیش کر سکے گا اور کمیٹی بلاتفریق فریقین اور متاثرین کو سنے گی.

