پاکستان کا بڑھتا تجارتی خسارہ، قرضہ لینے پر ’جشن شرمناک ہے‘: وفاقی وزیر
پاکستان کی معیشت کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک تجارتی خسارے کا ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران 20.3 فیصد اضافے کے ساتھ 31.98 ارب ڈالر ہو گیا، جو کہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 26.59 ارب ڈالر تھا۔
اس دوران برآمدات 25.21 ارب ڈالر رہیں، جو کہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 26.89 ارب ڈالر کے مقابلے میں 6 فیصد سے زیادہ کم ہیں۔ جبکہ درآمدات 57.19 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو کہ گذشتہ سال کے اسی عرصے کے 53.48 ارب ڈالر کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ ہیں۔
ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 46 مہینوں کی سب سے بلند سطح یعنی چار ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔ اس کی وجہ بڑھتی درآمدات اور سست روی کا شکار برآمدات ہیں۔
سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تجارتی خسارے سے متعلق کہا کہ ’جب تک ہم اپنی پیداواری صلاحیت کو نہیں بڑھائیں گے، دنیا کی مسابقت کے لحاظ سے برآمدات پر توجہ نہیں دیں گے، تو ہمارے لیے معاشی خودمختاری حاصل کرنا ممکن نہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی ملک کے لیے یہ نہایت شرمناک بات ہے کہ ہم کوئی بانڈ فلوٹ کریں اور اس پر جشن منائیں۔ بانڈ قرضہ ہے۔ ہم اگر ایک قرضہ لینے پر مجبور ہیں اپنی زرمبادلہ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تو یہ جشن کا موقع نہیں بلکہ اپنے محاسبے کا لمحہ ہے۔‘
احسن اقبال نے کہا کہ ’ہمیں درحقیقت غیرملکی زر مبادلہ کے ذخائر برآمدات اور فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کے ذریعے پورے کرنے چاہییں۔‘
سوشل میڈیا پر اکثر صارفین نے احسن اقبال کے بیان کو یورو اور پانڈا بانڈز کے اجرا سے جوڑتے ہوئے حکومت پر تنقید کی ہے اور احسن اقبال سے پوچھا ہے کہ وہ خود حکومت میں ہیں تو برآمدات کیوں نہیں بڑھ رہیں؟
وزارت خزانہ نے یورو اور پانڈا بانڈز کے اجرا کو اپنی کامیابی کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ پاکستان کی وزارت خزانہ کے ترجمان خرم شہزاد نے بتایا تھا کہ یورو بانڈ کے ذریعے ملک نے 75 کروڑ ڈالر جمع کیے گئے ہیں اور یہ ’چار سال بعد بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس میں پاکستان کی کامیاب واپسی ہے۔‘
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس پیش رفت کو چار سالہ سفر کی تکمیل قرار دیا اور اس بات کا اشارہ دیا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔
اسی طرح مئی میں وزارت خزانہ نے کہا تھا کہ چینی کیپیٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا سے 25 کروڑ ڈالر جمع کیے گئے ہیں۔ چینی کرنسی میں جاری والے ہونے تین سالہ پانڈا بانڈ کو چین کی آن شور کیپیٹل مارکیٹ میں پاکستان کا پہلا قدم کہا گیا تھا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’ہمیں اس کی طرف جانا ہے کہ ہم کیسے ایکسپورٹ ایمرجنسی کے ذریعے، تمام صوبے اور وفاق پاکستان کے ایکسپورٹ کو اسی جذبے کے ساتھ بڑھائیں جس طرح ہم نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کامیاب بنایا تھا۔‘
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ہمارے مستقبل کا دار و مدار صرف اس ایک پوائنٹ پر ہے کہ ہم نے اگلے 10 سالوں میں 100 ارب ڈالر کے ایکسپورٹ ٹارگٹ کو حاصل کرنا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی فروخت بڑھانی ہو گی، ملک میں فوڈ سکیورٹی حاصل کرنی ہو گی اور نوجوانوں کو آئی ٹی اور اے آئی کی تربیت دینی ہو گی۔
احسن اقبال کے بیان کو کچھ حلقے حکومت کے اندر وزیر خزانہ کے حوالے سے پائے جانے والے غصے کے اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ معیشت نہ سنبھال پانے کے بعد اب ملبہ ایک دوسرے پر ڈالا جائے گا-