’ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے‘ میں کویت کا ایئرپورٹ متاثر
کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایران پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ’وحشیانہ اور مسلسل حملوں‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
کویتی وزارت خارجہ کے مطابق تازہ حملوں کا آغاز بدھ کی علی الصبح ہوا ’جس میں ایک بار پھر سول اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔‘
بیان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور اہم تنصیبات بشمول سفارتی مشنز کو بھی نقصان پہنچا۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ’کویت ایران کے کھلے اور جارحانہ حملوں کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے، کیونکہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ کرتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں مزید زور دیا گیا کہ کویت کی سلامتی، خودمختاری اور اس کی سرزمین پر موجود شہریوں اور رہائشیوں کا تحفظ ایک ’ریڈ لائن‘ ہے جسے کسی صورت عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ وزارت نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے مسلسل حملے ایک منظم جارحانہ طرزِعمل کی عکاسی کرتے ہیں، جسے کویت نہ تو قبول کرے گا اور نہ ہی برداشت کرے گا۔
وزارت خارجہ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ کویت کو بین الاقوامی قوانین کے تحت ایران کی اس ’جارحیت‘ کا جواب دینے اور مناسب اقدامات کرنے کا مکمل اور بنیادی حق حاصل ہے۔
ادھر ایران کی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی آئل ٹینکر پر حملے اور جزیرہ قشم میں ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
بیان کے مطابق یہ حملے بدھ کو علی الصبح کیے گئے، ’جن کی منصوبہ بندی اور کی جانے والی کارروائی خطے کے دو ممالک سے کی گئی۔‘
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان کارروائیوں کو 10 اپریل کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ’کویت اور بحرین کی قیادت پر براہِ راست اور واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’کوئی بھی ملک جو جارح عناصر کو اپنی سرزمین، سمندری حدود، فضائی حدود یا اپنے علاقوں میں واقع اڈوں کے استعمال کی اجازت دے گا، تاکہ ایران پر حملہ کیا جا سکے، اسے ایران کے خلاف جارحیت کے مترادف سمجھا جائے گا۔‘
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ان حملوں کے ردعمل میں ’اصل مقام (یعنی جہاں سے حملے کیے گئے) کو نشانہ بنانے‘ کا حق حاصل ہے۔