اہم

’آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری ہتھیار نہ بنانا:‘ امریکہ اور ایران کے درمیان ’مفاہمتی یادداشت‘ کے اہم نکات

جون 18, 2026

’آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری ہتھیار نہ بنانا:‘ امریکہ اور ایران کے درمیان ’مفاہمتی یادداشت‘ کے اہم نکات

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں اور یہ اب نافذ العمل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جس کے تحت اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔

صدر ٹرمپ فرانس کے شہر ایویان لیباں میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود تھے۔

یہ معاہدہ جسے مفاہمتی یادداشت کہا جا رہا ہے 14 نکات پر مشتمل ہے، اس کے مطابق ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اس میں ملک کی ’تعمیر نو اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی وعدہ کیا گیا ہے، اگرچہ امریکہ کے لیے اس میں حصہ ڈالنا ضروری نہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاہدے کو ’کارکردگی پر مبنی‘ قرار دیا، جس کے تحت ایران کو اسی صورت میں فائدہ ہو گا جب وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے گا۔

معاہدے کے ابتدائی پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ’تمام محاذوں پر‘ فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل‘ خاتمے کا اعلان کریں گے جن میں لبنان بھی شامل ہے۔

صدر ٹرمپ کو اس بات پر تشویش رہی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیاں ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو متاثر کر سکتی ہیں۔

دستاویز کے مطابق حتمی معاہدہ اس تنازعے کے مستقل ’خاتمے‘ کا باعث بنے گا۔

’اندرونی معاملات‘ کا احترام

دستاویز کے مطابق امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی ’خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔

تیسرے نکتے کے مطابق، امریکہ اور ایران 60 دن کی ’زیادہ سے زیادہ‘ مدت میں حتمی معاہدے پر بات چیت اور اسے مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہوں گے تاہم باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

اب 60 دن کا یہ وقت شروع ہو چکا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔

امریکہ ناکہ بندی ختم کرے گا

چوتھے نکتے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شروع کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ’کسی بھی رکاوٹ یا پابندی‘ کو ہٹا دے گا۔

معاہدے اور ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ ناکہ بندی مکمل طور پر 30 دن کے اندر ختم کر دی جائے گی۔

مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران ’اپنی بھرپور کوششوں کے ساتھ انتظامات کرے گا‘ تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جا سکے۔ کہا گیا ہے کہ آمدورفت ’فوری طور پر‘ بحال ہونا شروع ہو جائے گی، جس میں تکنیکی اور فوجی ’رکاوٹوں‘ کو دور کرنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے اقدامات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

مفاہمتی یادداشت کے چھٹے نکتے کے مطابق امریکہ اور علاقائی شراکت دار، ایران میں تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر (224 ارب پاؤنڈ) کے ایک ’حتمی، باہمی طور پر طے شدہ منصوبے‘ کو تیار کریں گے۔

حتمی طریقۂ کار پر حتمی معاہدے کے 60 دن کے اندر اتفاق کیا جائے گا اور تمام لائسنس، رعایتیں اور اجازت نامے امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے۔

پابندیوں کا خاتمہ
امریکہ ایران کے خلاف تمام معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔ تاہم اس کے لیے وقت کا تعیّن واضح نہیں۔

جوہری ہتھیار نہیں
ایران اس بات پر متفق ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور نہ ہی خریدے گا اور دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ تہران کے پاس پہلے سے موجود افزودہ یورینیم کے معاملے کو حل کیا جائے گا۔

اس مواد کو سنبھالنے کا کوئی طریقہ واضح نہیں کیا گیا۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس کا طریقۂ کار بعد کے مذاکرات میں ’باہمی طور پر طے کیا جائے گا‘، تاہم کم از کم اسے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای سے) کی نگرانی میں اسی مقام پر ’کم افزودہ‘ کیا جائے گا۔

منجمد فنڈز

دستاویز کے گیارہویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکہ ’منجمد یا محدود فنڈز کو مکمل طور پر دستیاب بنانے‘ کا عہد کرتا ہے اور اس کے طریقۂ کار پر مذاکرات کے دوران اتفاق کیا جائے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے