لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے 14 بچے ہلاک، وزیراعلٰی برہم
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق پنجاب کے شہر لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے 14 بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
ان کے مطابق یہ وہ بچے ہیں جنھیں مردہ حالت میں ملبے تلے سے نکالا گیا۔ جبکہ زخمی بچوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ادھر پولیس کے مطابق گھر میں قائم اس ٹیوشن سنٹر کی عمارت گرنے کے بعد مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
لاہور کی کمشنر مریم خان کا کہنا ہے کہ کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت گِرنے سے 14 بچے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پانچ زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق اس حادثے میں ایک ٹیچر بھی زخمی ہے۔
ایک بیان میں مریم خان کا کہنا تھا کہ حادثے کے وقت عمارت میں قریب 35 بچے موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے پر پولیس سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہلاک ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ماں وہ والدین کی تکلیف کا اندازہ کر سکتی ہیں اور ’اس دکھ کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں مل رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں، جبکہ ریسکیو آپریشن کے دوران 20 بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ 14 قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی المناک اور ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔
مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ اس سانحے کے ذمہ دار کسی رعایت کے مستحق نہیں اور انھیں قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔ انھوں نے واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار کا جائزہ لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے لیے مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق واقعے کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے ’تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘