اڈے پر حملے میں دو امریکی فوجیوں کے مارے جانے کے بعد ایران پر بمباری
اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کے حملوں میں دو اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سینٹکام نے جوابی حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے-
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ اس نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کیا۔
سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلسل آٹھویں رات کیے جانے والے حملوں کے دوران امریکی افواج نے ایرانی فوج کی ساحلی نگرانی اور فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں، اور میزائل و ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا تاکہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کیا جا سکے۔
بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران امریکی فوج نے 17 جولائی کو اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے میں ملوث پاسدارانِ انقلاب کی فورسز کو بھی نشانہ بنایا۔
سینٹکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں۔
سینٹکام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا اور گذشتہ رات اردن میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے پاسدارانِ انقلاب کو ’فوری سزا دینا‘ تھا۔
یہ حملے سینٹکام کی جانب سے اردن میں ایک فوجی اڈے پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد کیے گئے ہیں۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی قربانی امریکہ کے عزم کو مزید مضبوط کرے گی۔

