دہری شہریت سینٹرز کو حلف کی اجازت
سپریم کورٹ نے دہری شہریت کے از خود نوٹس کیس میں الیکشن کمیشن کو عبوری طور پر نومنتخب سینیٹرز کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے _ عدالت نے کیس کی ساعت کے لئے لارجر بنچ تشکیل دیتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے _
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ازخود کیس کی سماعت کی، عدالتی معاون بلال منٹو اور علی ظفر نے دلائل دئیے _ نو منتخب سینیٹر چوہدری سرور نے کہا کہ گورنر بننے سے قبل انہوں نے برطانوی شہریت چھوڑ دی تھی تب سے آج تک وہ پاکستانی شہری ہیں اور ملک کے لئے تعلیم، صحت اور صاف پانی کے منصوبے اپنی جیب سے چلا رہے ہیں _
چیف جسٹس کے پوچھنے پر چوہدری سرور نے کہا کہ ان کی جائیدادیں اور بیوی بچے برطانیہ میں ہیں جبکہ ان کے بیوی بچوں کے پاس برطانوی شہریت ہے _ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی باتیں اپنی جگہ پر مگر عدالت کے پاس آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون سی کی تشریح کا معاملہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا _
چیف جسٹس نے کہا کہ غیر ملکی قوانین کے تحت شہریت دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے، عدالت میں حلف نامہ جمع کرانا کافی نہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ٹکٹ میں دو مزے لئے جائیں _
عدالت نےدوہری شہریت پر نوٹس والے نومنتخب سینیٹرز سعدیہ عباسی، شاہین خالد بٹ، نزہت صادق، ہارون اختر وغیرہ کے معطل نوٹیفیکشن کو عبوری طور پر بحال کر دیا ہے، عدالت نے کیس کی ساعت کے لئے لارجر بنچ تشکیل دیتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے _

