برطانوی وزیر داخلہ پاکستان میں
پاکستان کے دورے پر آئے برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے کہا ہے کہ برطانیہ بدعنوانی کے مسئلے کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے اور احتساب سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے ۔ انھوں نے یہ بات ی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہی ۔
برطانوی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے لیے بہت اہم ملک ہے، یہ ان ممالک میں شامل ہے جن کے ساتھ ہمارے نہایت اہم باہمی تعلقات ہیں ۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کا ذمہ دار ہونے کے ناطے میرا خیال ہے کہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے ۔
برطانوی وزیر داخلہ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ نے ماضی میں کچھ لوگوں کو ایک دوسرے کے حوالے کیا ہے اور اس کے لیے ایک باقاعدہ درخواست کا طریقۂ کار موجود ہے۔ یہ ایک منفرد معاملہ ہے اور میں اس کا احترام کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک راستہ ہے کہ ہم مجرموں کی حوالگی سے متعلق باقاعدہ معاہدہ کریں اور میں اس بارے میں پاکستانی حکومت سے بات کروں گا ۔
ساجد جاوید نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی ہے ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ملاقات میں باہمی تعاون کے امور پر تبادلہِ خیال کیا جن میں علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، منظم جرائم، تارکین وطن، انسانی سمگلنگ، منی لانڈرنگ اور اثاثوں کی واپسی کے معاملات زیر بحث آئے

