عالمی بنک سے بھی قرض لینے کا فیصلہ
Reading Time: 2 minutesوزیراعظم کے زیرصدارت اکنامک ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں غربت مٹاؤ پروگرام کے لئے ورلڈ بینک سے سوا چار کروڑ ڈالرز قرض لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے کے لئے 5 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی ۔
جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت بنی گالہ میں اکنامک ایڈوائزری کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے ۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں ٹیکس ریفارمز،ایس ایم ایز، روزگار کے مواقع اور سوشل پروٹیکشن ترجیحات زیر غور آئیں جب کہ ہاوسنگ، زراعت،ایس ایم ایز میں مراعات کے حوالے سے مشاورت ہوئی اور کونسل ممبران کی جانب سے مختلف شعبوں میں فروغ کی تجاویز کو حتمی شکل دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم نے ملک کی معیشت میں بہتری کے لیے مڈٹرم فریم ورک اورکمزور طبقے کے لیے سوشل پروٹیکشن فریم ورک کی بھی منظوری دی، سوشل پروٹیکشن فریم ورک میں غربت،صحت ،تعلیم سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے کے لئے رقم پی ایس ڈی پی کے تحت جاری کی جائے گی جبکہ غربت مٹاؤ پروگرام کے لئے عالمی بینک سے 42 ملین ڈالرز قرض لیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ قرض لینے کی تجویز گزشتہ حکومت نے عالمی بینک کی متعلقہ ایجنسی کو بھجوائی تھی، موجودہ حکومت نے اس اقدام کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں تعلیم، صحت، غربت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے جامع اور معاشی بہتری کیلئے وسط مدتی ڈھانچہ جاتی فریم ورک کی منظوری دی گئی تاکہ کمزور طبقات کا تحفظ ممکن بنایا جاسکے ۔ نوجوانوں کو کار آمد شہری بنانے کے لئے جامع پلاننگ کا فریم ورک بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نوکریوں کی فراہمی اور برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی جلدتیار کی جائے۔
اجلاس میں ایف بی آر کے پالیسی ونگ کو بھی الگ کرنے اورملک میں نیوٹریشن پروگرام فوری طور پر شروع کرنے کے فیصلے بھی کئے گئے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 29 نومبر کو 100 روزہ پلان کے تحت اپنے فیصلوں کا اعلان کریں گے۔