نیب افسران کے خلاف تحقیقات کا حکم
سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت سے گندم امپورٹ میں کرپشن کے الزامات پر نیب سے جامع رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے غلط تحقیقات کرنے والے نیب افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دیا تھا نیب نے رپورٹ میں صرف یہ لکھ دیا کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا ۔
جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے گندم امپورٹ کرپشن کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے معاملے میں زمہ دار نیب افسران کی رپورٹ طلب کی تھی، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ نیب نے رپورٹ جمع کرا دی ہے، عدالت کی تمام ہدایات پر عمل کر دیا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا نیب کی رپورٹ جامع ہے؟ آ پ نے رپورٹ میں صرف یہ لکھا کہ آ ئندہ ایسا نہیں ہوگا جبکہ سپریم کورٹ نے نیب کو تحقیقات کر کے نیب افسران کے خلاف کاروائی کا کہا تھا، نیب آ ج کہہ رہی ہے کہ تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل صاحب، کیا آپ کی رپورٹ میں تمام تفصیلات ہیں جس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ رپورٹ میں تمام تفصیلات شامل نہیں ۔
عدالت نے نیب سے جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی ۔
خیال رہے کہ نیب نے 1997 میں خراب گندم امپورٹ کرنے پر سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا سردار مہتاب عباسی سمیت دیگر ملزمان پر ریفرنس بنایا تھا ۔
سپریم کورٹ نے تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے غلط تحقیقات کرنے پر نیب افسران کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا ۔

