چھاپے پر ایف بی آر سے جواب طلب
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف بی آر سے کہا ہے کہ وہ نجی کمپنی پر چھاپہ مارنے کی وجوہات بتائے اور اپنی قانونی پوزیشن سے آگاہ کرے ۔
عدالت نے رئیل اسٹیٹ بلڈر کے مالک اور درخواست گزار شاہد چن زیب کو بھی ہدایت کی ہے کہ کمپنی کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ پیش کرے ۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس جمع کرانے والوں کا احترام کرے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں نجی ریئل سٹیٹ بلڈر کمپنی ریڈسنز پر ایف بی آر کے چھاپے کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔
عدالت کو درخواست گزار کے وکیل قمر افضل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ایف بی آر حکام نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے کارروائی کی، جس وقت کمپنی کے دفتر پر چھاپہ مارا وہاں کلائنٹس موجود تھے جس سے ہماری ساکھ کو نقصان پہنچا ۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ایف بی آر ٹیکس دینے والوں کا احترام کرے اور انہیں ہراساں نہ کرے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ایف بی آر نے چھاپہ مارنے سے قبل کوئی نوٹس دیا؟۔
ایف بی آر کے وکیل نے بتایا کہ کمپنی اور اس کے مالک کے 23 بنک اکاؤنٹس ہیں جن میں سے صرف 6 کو ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ کمپنی کا 10 ارب روپے کا ٹرن اوور بنتا ہے مگر انہوں نے 2 ارب روپے ظاہر کیا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ نادرا کے پاس تمام ڈیٹا موجود ہوتا ہے، کیا آپ نے نادرا سے متعلقہ ریکارڈ کے لیے رابطہ کیا؟
ایف بی آر کے وکیل نے بتایا کہ نادرا بنک اکاؤنٹس کی تفصیل نہیں دیتا، وہ ٹیکس پیئرز نے ہی بتانا ہوتی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نادرا ریکارڈ دینے سے انکار کرتا ہے تو آپ ٹیکس پیئرز سے پہلے ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟۔
ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ دستاویزات بالخصوص سی وی ٹی کا ریکارڈ کمپنی/ٹیکس دہندہ کے علاوہ کہیں سے نہیں ملتا۔
قمر افضل ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے اپنے اور کمپنی کے تمام بنک اکاؤنٹس ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کیے ۔ وکیل نے کہا کہ ایف بی آر نے بار کوڈ کے بغیر نوٹس بھجوائے جو ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ 2018 کا ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ایف بی آر کوئی بھی لیٹر بغیر بار کوڈ کے نہیں بھجوا سکتا۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایف بی آر نے ٹیکس چور کہہ کر میڈیا میں ہمارے خلاف خبریں بھی چلوائیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت میں جب کوئی پٹیشن داخل ہو یا جواب جمع کرایا جائے تو وہ پبلک ڈاکومنٹ بن جاتا ہے اس لیے رپورٹ کیا جاتا ہے ۔
عدالت نے ایف بی آر اور درخواست گزار کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت سات مارچ تک ملتوی کر دی ۔

