جنگ ہوئی تو رک نہیں پائے گی
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر انڈیا کو بات چیت اور پلوامہ حملے کی تحقیقات کی پیشکش کی ہے ۔
وزیراعظم عمران خان نے قوم سے مختصر خطاب میں کہا کہ امن کے حامی ہیں، جنگ شروع ہوئی تو حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے ۔
وزیراعظم عمران خان نے انڈیا سے موجودہ کشیدہ صورتحال پر اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے پلوامہ حملے کے بعد بھارت کو تحقیقات کی پیشکش کی تھی، پاکستان پلوامہ حملے کے متاثرین کے لواحقین کا دکھ جانتا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ دس سال میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے باعث سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے متاثرین کا کیا دکھ ہوتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی پیشکش کے باوجود انڈیا نے جارحیت کا راستہ اپنایا ہے جس کے جواب میں پاکستان نے کارروائی کی اور انڈیا کے دو طیارے تباہ کیے ۔
وزیراعظم نے ایک بار پھر بھارت کی جانب مذاکرات کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا کہ بھارت ثبوت دے تو پلوامہ حملے کی تحقیقات میں معاونت کریں گے اگر کوئی پاکستانی ملوث ہوا تو کاروائی بھی کی جائے گی ۔ تاہم کسی بھی خود مختار ملک کی طرح پاکستان اپنی قومی سلامتی کا دفاع کرے گا ۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خود جج بنا اور فیصلہ کیا ۔ تاہم پاکستان نے ذمے داری کا ثبوت دیا اور شہری آبادی کو نقصان سے بچانے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کیا ۔
وزیراعظم نے جنگ کے خلاف بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ’جنگ شروع ہوئی تو حالات نہ ان کے ہاتھ میں رہیں گے نہ ہی نریندری مودی کے کنٹرول میں۔ ؛
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بارے میں لگائے گئے اندازے ہمیشہ غلط نکلتے ہیں اور شروع ہو جائے تو ختم ہونے کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ۔

