پاکستان24 متفرق خبریں

حکومت سیاسی بیان فوجی ترجمان کے ذریعے نہ دے

اپریل 29, 2019

حکومت سیاسی بیان فوجی ترجمان کے ذریعے نہ دے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی بیانیے کے لیے فوج کے ترجمان کو استعمال نہ کرے، اس سے ادارے متنازع ہوں گے.

اسلام آباد کے زرداری ہاؤس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے آئی ایس پی آر کے ترجمان کی پریس بریفنگ پر اعتراض کیا.

بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کو اپنے متعلقہ وزراء کے ذریعے خارجہ، داخلہ و تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات کے بیانات سامنے لانے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس پی آر کے ذریعے سیاسی بیانیہ دینے سے ادارے متنازع ہوں گے اور پاکستان پیپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ پاکستان کے ادارے متنازع ہوں ۔ ’خان صاحب کو ڈی جی کے ذریعے سیاسی بیان نہیں دلوانا چاہیے، یہ ادارے کو متنازع بنائے گا۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دفاع، خارجہ، داخلہ اور معاشی امور پر متلعقہ وزیر ہی بات کرے ۔

جعلی پولیس مقابلوں میں ملوث راؤ انوار کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے بیان کا حوالہ دیے جانے کے سوال پر بلاول نے کہا کہ اب بات راؤ انواز سے بہت آگے نکل چکی ہے، وہ ایک آدمی نہیں تھا جو اکیلا مقابلے کراتا تھا ۔ ’آج بھی ملک میں مقابلے ہو رہے ہیں وہ راؤ انوار تو نہیں کرا رہا ۔‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ نیب گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، پوری پارٹی کو بھی جیل بھجوا دیا جائے تو بھی پاکستان پیپلزپارٹی اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی ۔

بلاول بھٹو نے حکومت کی معاشی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امیروں کے لیے ایمنسٹی سکیم جبکہ غریبوں پر مہنگائی کے پہاڑ گرائے جا رہے ہیں ۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پارلیمنٹ میں زیر بحث لائے بغیر آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے بے نامی اکاؤنٹس پاک جبکہ دوسرے تاجروں کو بے نامی اکاؤنٹس پر تنگ کیا جارہا ہے، حکومت کے مشیر خزانہ معیشت پر بریفنگ دینے کے لیے سامنے آنے کو تیار نہیں ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے