بغیر ورزش 26 کلو وزن کم کر لیا
اپنا وزن کم کرنے پوسٹ لگائی تو یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ ہمارے پاکستانیوں پر صرف قرضے ہی نہیں بڑھ رہے بلکہ ان کی توندیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔
بہت سے دوستوں نے پوچھا کہ یہ کیسے کیا، اس "کیسے” کا جواب یہاں لکھ رہا ہوں۔ گزارش یہ ہے کہ یہاں صرف وہ لکھ رہا ہوں جو میری روٹین ہے کوئی باقاعدہ ڈائٹ پلان یا ورزش کا اس میں عمل دخل نہیں۔
سنہ 2013 سے متحدہ عرب امارات میں روٹی ٹُکر کے چکر میں مقیم ہوں اور پھر اس دوران جو بھی کیا وہ بس "روٹی ٹُکر” ہی تھا، وزن تو اس وقت بھی 82 کلو تھا لیکن امارات میں آ کر یہ بھی ڈالر کی طرح روز بروز مزید بڑھتا ہی چلا گیا اور نوبت بہ ایں جا ریسد کے ایک سو چھ کلو تک پہنچ گیا۔ اس دوران کئی جتن کیے کبھی جم سٹارٹ کیا تو کبھی کوئی ڈائٹ پلان، تو کبھی کچھ لیکن ہماری ازلی تن آسانی اور غیر مستقل مزاجی آڑے آتی رہی۔ کبھی دو چار کلو کم کرنا تو ایک آدھ ماہ میں پانچ چھ کلو بڑھا بیٹھنا۔
خیر آمدم برسرِ مطلب کہ برادرم عثمان جگت پوری اور معاذ بھائی کی تحریروں سے بھی سپارک ملا اور پھر ایک دوست جو کہ خود بھی وزن کم کرنا چاہتا تھا اس کی تحریک پہ پھر سے اس پہ کام شروع کیا۔
ہم چونکہ سادہ سے پینڈو سے لوگ ہیں لمبی چوڑی چیزوں کا ہمیں پتہ نہیں۔ دوست نے بتایا کہ صبح نہار منہ ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایپل سائیڈر سرکہ، آدھا لیموں اور ایک چمچ شہد شامل کر کے پیو میں نے یہیں سے سٹارٹ کر لیا۔
پھر ایک دو گھنٹے بعد ناشتہ کرنا ایک دو ابلے انڈے ساتھ شوگر فری چائے، دن میں دلیہ وغیرہ رات کو ایک آدھ پیالی ابلے چنے وغیرہ لینا شروع کیا اور دن میں دو تین کپ گرین ٹی کے۔ اس کے علاوہ دن میں اگر بھوک لگے تو سنیکس کے طور پہ مٹھی بھر ڈرائی فروٹس لینا روٹین رہی۔
دوسرا تھا پیدل چلنا، پہلے یورک ایسڈ کی وجہ سے پیروں میں درد رہتا تھا تو چلنے میں کبھی کبھار ڈنڈی مار جاتا تھا لیکن اس دوران پاؤں کے درد کو نظر انداز کر کے پیدل مارچ کی روٹین بنائی کم سے کم دس کلو میٹر چلنا ایک دن میں، اس سے زیادہ ہی چل لیتا تھا لیکن اتنا لازمی۔
ایک آدھ ماہ ایسا چلا اور پانچ سات کلو تک وزن کم ہوا پھر آہستہ آہستہ یہ روٹین بھی چھوٹی۔ پھر وہی سادا اور پرانا طریقہ یعنی کیلوریز کاؤنٹنگ پہ آ کر گاڑی روکی، اور تا حال اسی پہ چل رہی ہے ساتھ ساتھ پیدل چلنا اس کے علاوہ کسی قسم کی کوئی ورزش کرنے کا نہ تو وقت ملتا ہے اور نہ ہی ہوتی ہے۔
روٹی اور چاول وغیرہ پہ ہاتھ ہولا جبکہ میٹھے سے مکمل بائیکاٹ کر رکھا ہے، رمضان میں تھوڑی روٹین خراب ہے بہرطور عید کے بعد پھر سے رگڑا لگا دیا جائے گا۔
طوالت کے ڈر سے موٹی موٹی چند باتیں عرض کر دی ہیں۔ اصل بات یہی ہے کہ اپنے لائف سٹائل کو دیکھیں۔ کہاں کہاں ہم بے احتیاطی سے کام لیتے ہیں اس پہ توجہ دیں۔
تلی ہوئی چیزوں اور شوگر سے مکمل پرہیز کریں۔ پیدل چلنے کو اپنی روٹین کا حصہ بنائیں اور مستقل مزاجی سے اس پہ کاربند رہیں۔
وقت لگتا ہے یقیناً۔ میں نے 106KG سے چھ کلو کم کیا، پھر کچھ ماہ 100KG پہ سوئی اٹکی رہی۔ پھر اب کے 100KG سے سٹارٹ کیا تو تقریباً پانچ یا چھ ماہ میں 20 کلو وزن کم کیا ہے۔ اس وقت بھی 80 کلو ہے۔ 70 کلو ہدف ہے انشاءاللہ۔
بشارت وارثی کی تحریر

