پاکستان24 متفرق خبریں

پولیس والا ملزم کے گھر سے فریج بھی لے گیا

مئی 28, 2019

پولیس والا ملزم کے گھر سے فریج بھی لے گیا

پاکستان میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دو نابالغ بچوں کی گرفتاری کے خلاف درخواست اس وقت نمٹا دی جب عدالت کو بتایا گیا کہ دونوں بچے اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔ چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ پولیس کا کلچر اب تبدیل ہونا چاہیے، بچوں کا خصوصی خیال رکھیں۔ ملزمان کو پکڑیں، بچوں کو نہیں۔

تاہم اس دوران ‏بچوں کی خالہ نے الزام عائد کیا ہے کہ تفتیشی افسر ثاقب انکے گھر سے فریج بھی اٹھا کر لے گئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دو نابالغ بچوں کی گرفتاری کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے حکم دیا کہ تھانہ گولڑا کے ایس ایچ او اور تفتیشی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔

عدالت نے درخواست گزار تسلیمہ بی بی سے استفسار کیا کہ کیا ان کے بچے مل گئے؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ اب بچے واپس مل گئے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید سے استفسار کیا کہ پولیس نے اب تک کیا ایکشن لیا ہے؟ ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے جواب دیا کہ ایف آئی آر درج کر کے ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کو گرفتار کرلیا ہے۔

ملزمان کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پولیس کا کلچر اب تبدیل ہونا چاہیے بچوں کا خصوصی خیال رکھیں۔ ملزمان کو پکڑیں فیملی ممبر یا بچوں کو نہیں۔ امیروں کے لیے الگ قانون ہے غریبوں کے لیے الگ۔

تھانہ گولڑہ کے ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کے وکیل نے عدالت سے کہا ایس ایچ او اور تفتیشی سے ملنے نہیں دیا جا رہا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا پولیس نے جو کچھ کیا آپ اس کا جواز دے رہے ہیں؟

عدالت نے بچے گھر والوں کو ملنے کے بعد درخواست نمٹادی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے