نئے پاکستان میں ایک ہی حکومت کی دو عیدیں
پاکستان میں تحریک انصاف کی مرکزی حکومت اور خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت نے رمضان کے ختم ہونے پر عید کے ایک ساتھ کرنے دعوؤں کے باوجود عملی طور پر ایسا نہ کیا اور صوبائی حکومت نے منگل 4 جون کو عیدالفطر کا اعلان کرکے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکںالوجی فواد چودھری کی ایک ماہ کی کوششوں کو مولانا پوپلزئی پر قربان کر دیا۔
وفاقی وزیر فواد چودھری نے خیبر پختونخوا حکومت کے عید کے اعلان پر مایوسی اور غصے کا اظہار کیا ہے۔
فواد چوہدری خیبر پختونخوا میں اپنی ہی جماعت کی حکومت کے عید منانے کے اعلان کے بعد سیخ پا ہو گئے اور ایک بیان میں انھوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے اس فیصلے کو ‘نامناسب’ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حکومتی فیصلے سے جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ فواد چودھری کا مزید کہنا تھا کہ ‘دنیا کو یہ پیغام گیا کہ جیسے جھوٹ کوسرکاری سرپرستی حاصل ہے۔’
ادھر خیبر پختونخوا حکومت کے وزیر شوکت یوسفزئی نے تمام تر تنقید کے باوجود کہا ہے کہ ان کی حکومت کا فیصلہ درست تھا تاہم 28 روزوں کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی ذمہ دار ہے اور صوبے کے لوگ عید کے بعد ایک روزے کا کفارہ ادا کریں۔
وفاقی وزیرفواد چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘حکومتیں کبھی مسلک اور مقامی لڑائیوں میں نہیں پڑتیں۔’
فواد چوہدری نے کہا کہ ‘گزشتہ روز شوال کے چاند کا نظر آنا ناممکن تھا چناچہ مذہبی تہوار کی بنیاد بھی جھوٹ پر رکھ دی گئی ہے۔’
وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی نے کہا کہ’جو چاہے جہاں عید کرے مگر جھوٹ کی بنیاد پر نہیں۔’
سوشل میڈیا پر صارفین نے کہا ہے کہ جب عمران خان اور ان کی حکومت ملک میں ایک عید نہ کرا سکی تو مستقبل میں بھی اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔
بعض صارفین نے سنہ 1958 کے اخبارات میں شائع شدہ ایک خبر بھی شئیر کی ہے جس کے مطابق مشرقی و مغربی پاکستان میں کہیں بھی شوال کا چاند نظر نہیں آیا تاہم پشاور میں عید ہوگی۔

