قومی معیشت پر فوجی سیمینار
پاکستان میں شدید بحران کی شکار اور بدحالی میں گھری قومی معیشت پر فوج نے اپنے زیرانتظام نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں سیمینار منعقد کرایا ہے۔
سیمینار سے خطاب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ علاقائی ترقی کے لیے تمام ہمسایہ ممالک کےدرمیان روابط ضروری ہیں۔ ”معاشی بداتنظامی کے باعث ہمیں اس معاشی صورتحال کا سامنا ہے۔ ماضی میں ہم مشکل فیصلے کرنے سے گھبراتے رہے۔“
آرمی چیف نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرکے مسلح افواج نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ملکی معیشت بہتر کرنے کے لیے دفاعی بجٹ کم کرانا ایک قدم ہے۔ اس کے علاوہ بھی اقدامات کر رہے ہیں۔

جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسی مثالیں ہیں کہ کئی ممالک کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ممالک نے مشکل فیصلے کئے اور وہ ان چیلنجز سے نکل آئے۔
آرمی چیف نے کہا کہ ہم بھی ان چیلنجز سے نکل آئیں گے۔ وقت آگیاہے کہ ہم ایک قوم بن کر ابھریں۔ مشکل وقت میں اکیلے رہ کر کامیابی نہٰں ملتی۔ کامیابی اس وقت ملتی ہے جب قوم متحد ہو۔
پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ماہرین معاشیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے رابطے جاری رہنے چاہئیں۔
فوجی ترجمان کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں لگائی گئی ویڈیو کے مطابق حکومت کی معاشی ٹیم کے تمام اہم ارکان ڈیفنس یونیورسٹی کے اس سیمینار میں شریک تھے۔

فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ معاشی خودمختاری کے بغیر کسی بھی قسم کی خودمختاری کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ ”ہمیں حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے معاشی اقدامات کی بھرپور سپورٹ کرنی چاہیے۔“

جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ملک پر اس وقت مشکل وقت ہے اور ہمیں ایک قوم بننا ہے۔ قومی امور پر کھل کر بات چیت ضروری ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ معاشی خود مختاری کے بغیر کوئی خودمختاری ممکن نہیں۔ ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں۔ معاشی کاوشوں کو کامیاب بنانے کے لئے ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ ہم ان مشکلات سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ مشکل معاشی فیصلے نہ کرنے سے مشکلات بڑھیں۔

