’عدلیہ اپنی ساکھ بحال کرے‘
آل پاکستان لائرز کنونشن میں وکلا نے اعلی عدلیہ کے ججوں کے خلاف ریفرنسز کی مذمت کرتے ہوئے قرار دادیں منظور کیں ہیں جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس واپس لیے جائیں اور سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن ’اداروں‘ کے کہنے پر فیصلہ نہ کرے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل فوری طور پر دونوں ریفرنسز مسترد کرے، سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل جن ججز کے خلاف ریفرنسز ہیں ان کو جسٹس قاضی کا ریفرنس سننے سے الگ کیا جائے، قاضی فائز عیسی اور کے کے آغا کے خلاف ریفرنسز ان کی باری پر سنے جائیں، اداروں کی ایما پر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وکلا کے حوالے سے چیف جسٹس کے ریمارکس افسوسناک ہیں، عوامی مفاد کے آرٹیکل 184 تین کے قواعد و ضوابط وضع کیے جائیں۔
لائرز کنونشن نے میڈیا پر پابندی کی پرزور مذمت کی۔ خیال رہے کہ پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز نے مکمل بھر کے وکلا کے اس کنونشن کی خبر نشر نہیں کی۔
یہ قراردادیں سنیچر کو اسلام آباد بارکونسل اورڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ وکلاکنونشن کے دوران منظور کی گئیں۔
کنونشن میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل امجد شاہ، وائس چیئرمین اسلام آباد بارکونسل ہارون الرشید، وائس چیئرمین بلوچستان بارکونسل حاجی عطا اللہ لانگو، وائس چیئرمین خیبرپختون خوا بارکونسل سعیدجان، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی اسلام آباد بارکونسل قاضی رفیع الدین بابر، ممبر پاکستان بارکونسل محمدشعیب شاہین، صدرپشاور ڈسٹرکٹ بارتیمورعلی شاہ، صدرلاہور ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن راولنڈی غلام مصطفی کندوال، سابق صدرسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن علی احمد کرد، ممبرسندھ بارکونسل غلام رسول سہو کے علاوہ آذاد کشمیرسپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے عہدیداران اور وکلا کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرائی نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی تاریخ کا اہم موڑ ہے۔ ’آج پاکستان آپ سے آپ کی امنگوں، محبتوں اور آرزووں کا پیاسا ہے، وکلا پاکستان کی وقار کو بلند کریں گے، پاکستانی عوام نے وکیلوں پر بھروسہ کیا تھا، کسی تھانیدار پر نہیں، قائد اعظم وکیل تھا تب ہی عوام نے ان پر بھروسہ کیا، پاکستان کو وکیلوں نے بنایا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قانون کی محافظ پاکستانی عدلیہ ہیں، اگر عدلیہ نہ ہوتی تو آپ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جائے گا، وہ لوگ قانون اور آپ کے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتے جن پر کرپشن کے الزامات ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بلوچستان کے ساتھ زیادتی ہے 2016 میں شہید وکلا کو آپ کیسے بھول سکتے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 2023 میں چیف جسٹس بننے والا تھا، بلوچستان جیسے صوبے کے جج کے خلاف آپ نے ریفرنس دائر کردیا، بلوچستان کے خلاف آپ نے بغاوت کردی۔
’یہ حفاظت ہم جج کی نہیں کررہے،ججز کی تاریخ بھی ہمارے سامنے ہیں، ہمیں آزاد عدلیہ چاہیے، قانون کی بالادستی چاہیے،ہم نے آزاد عدلیہ کے لئے متحد ہونا ہے۔‘
امان اللہ کنرانی نے کہا کہ وکلا نے ہی عدلیہ کی حفاظت کرنی ہے، اس وقت سیاستدان مفادات کی وجہ سے خاموش ہیں عدلیہ ملکی آئین اور انسانی حقوق کی محافظ ہے۔ ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نظام کی خامیوں کی نشاہدہی کی، آج بہترین ججوں کے خلاف ریاست اور سیاسی قیادت متحرک ہیں، عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش ریاست کو کمزور کرنا ہے، ہم نے جج کی نہیں عدلیہ کی حفاظت کرنی ہے، وکلاکسی کو ایسے کام نہ کرنے دیں جس سے ریاست کمزور ہو۔‘
’ہم جسٹس فائز عیسیٰ کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے تو تاریخ معاف نہیں کرے گی،ایسی عدلیہ چاہتے ہیں جو کسی کی مرضی کی بجائے قانون پر فیصلے کرے۔‘
وائس چئیرمین پاکستان بار کونسل امجد شاہ نے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بقا کی خاطر ہم اکٹھے ہوئے ہیں، اس ملک کا ہم پر قرض ہے جو ہم نے ادا کرنا ہے ہر آواز کو فوجی آپریشن کے ساتھ ختم نہیں کی جاسکتا۔ ’تمام ریاستی ادارے اپنے دائرہ کار میں رہیں جو دائرہ کار سے نکلے گا تو ریاست پاکستان کمزور ہو گی دو ججز کے خلاف مسئلہ ریفرنسز کا ہے۔
’احتساب بلاامتیاز ہونا چاہیے کسی خاص کے خلاف نہیں جو اسٹیبلشمنٹ کو کانٹے کی طرح چبھیں ان کو رستے سے اس طرح ہٹانا ٹھیک نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنسز میں بدنیتی نظر ارہی ہے ہم وکلا اصول پر کھڑے ہیں ہم نے 184 تین کے پرامیٹرز طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ ’ہمارا ادارے اتنے مضبوط نہیں کہ مادر پدر آزاد اختیارات دیے جائیں۔‘
امجد شاہ نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل جن تین ججز کے خلاف ریفرنس ہیں وہ الگ ہوجائیں، اگر وہ ریفرنسز والے ججز الگ نہیں ہوتے تو چیف جسٹس ان کو الگ کریں۔ ’تمام ریفرنسز اپنے اپنے نمبر پر چلائے جائیں، جن ججز کا رویہ ٹھیک نہیں ملک بھر سے ان کے خلاف ریفرنس دائر کریں گے۔ کرپٹ ججز کو عدلیہ میں نہیں رہنے دیں گے۔ ملک بھر کی بارکونسلز کرپٹ ججز کے خلاف ثبوت اکٹھے کریں۔‘
اس موقع پر سابق صدرسپریم کورٹ بارایسوسی ایشن علی احمد نے کہا کہ عدالتوں میں لوگوں کو انصاف دلانے والے آج یہاں کیوں جمع ہیں، پشاور ہمارا نقطہ آغاز تھا، اور آج ہم اسلام آباد میں جمع ہوئے 8 اگست کو ہم دلیر اور امن پسند لوگوں کے شہر کوئٹہ میں جمع ہوں گے، ہم آپ کو بتا رہے ہیں، سمجھا رہے کہ کوئٹہ کنونشن شہید وکلا کا کنونشن ہوگا، ہم آج کہہ رہے ہیں کہ اپنی عزت بچاو اور ہماری عزت بھی بچاو، ہم عزت بچانا اور کروانا جانتے ہیں۔
’محترم ججز کی ماضی میں تاریخ اٹھا کر دیکھیں، ہر جج کے دامن پر پی سی او کا داغ لگا ہے، وکلا نے اس ملک میں اپنی لئے عزت پیدا کی ہے اور اپکو بھی عزت دلایا ،آپ ہمیں عزت سکھانا نہ سمجھائے، خود تو اپنی عزت کرا نہیں سکتے اور بات کرتے ہو عزت کی، آپ کو جو عزت خیرات میں ملی ہے وہ ہماری وجہ سے ہے، اپ کو سونے کی پلیٹ میں گولڈ چانس دے رہے ہیں کہ سمجھ جائیں، کوئٹہ کے بعد کراچی پہنچیں گے تو وہ وکلاکنونشن نہیں 22 کروڑ عوام کا کنونشن ہوگا۔‘
علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ دنیا کی کسی طاقت نے کبھی عوام کو شکست نہیں دی، تاریخ بڑی ظالم چیز ہے۔ یہ ملک ایک خوبصورت تاریخ رکھتا ہے، قاضی فائزعیسی سے ہمارا کوئی لین دین یا تعلق نہیں اورنہ ہی فائدہ ہے وہ جج اورہم وکیل ہیں لیکن وہ ایک سچا جج ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی عمارت میں کسی خوبصورت انسان کو رہنے دیں۔
وائس چیئرمین اسلام بار کونسل ہارون الرشیدنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عدلیہ کی آزاد بحالی اور جمہوریت کی بحالی کے لئے نکلے ہیں،قاضی فائز عیسیٰ سیکورٹی ایجنسیوں سے جانچ پڑتال کے بعد ہی سپریم کورٹ کے جج بنے،قاضی فائز عیسیٰ پر اس وقت تو کوئی مسلہ نہیں تھا،سپریم جوڈیشل کونسل ہمارے لئے قابل عزت ہیں۔
وائس چئیرمین اسلام آباد بار کونسل جاوید سلیم شورش نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس ایا تو ہم نے بھرپور آوزا اٹھائی، ہم نے شوکت عزیز صدیقی کے حق میں ملک بھر میں قرادادیں منظور کیں۔ ہم اسی وقت کہتے تھے اگلا نمبر قاضی فائز عیسی کا ہوگا۔ کسی ڈکٹیٹر کے دور میں ہوتا تو دکھ نہ ہوتا آج جمہوری دور میں یہ سب کچھ ہم دیکھ رہے ہیں کسی نے عدلیہ کو غلام بنانے کی کوشش کی تو اس کی حکومت نہیں رہے گی۔

