ایجنسیوں نے تعاقب کیا، جسٹس فائز
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی آئینی درخواست پر فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی درخواست کو دیگر درخواستوں کے ساتھ سنا جائے اور اس پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔
جسٹس فائز نے سپریم کورٹ میں دو متفرق درخواستیں دائر کی ہیں۔ ایک میں چیف جسٹس کے ریفرنس پر فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
جسٹس فائز عیسی نے اپنی درخواست میں کئی اہم انکشافات کیے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کیے جانے سے ایک ماہ قبل چیف جسٹس کھوسہ ان کو واک پر لے گئے تھے اور کچھ باتیں کیں۔
انہوں نے لکھا ہے کہ ”چیف جسٹس نے مجھ سے واک پر جو باتیں کیں وہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے بند کمرے میں بتاؤں گا اور پھر چیف جسٹس وہاں مجھے غلط ثابت کریں۔“

درخواست کے مطابق فل کورٹ بنانے کی عدالتی نظیر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بنام ریاست کیس میں موجود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ میری درخواست میں بہت اہم آئینی سوالات جو عدلیہ کہ آزادی اور صدر مملکت آزاد رائے سے متعلق ہیں۔ میری درخواست میں وفاقی کابینہ کی منظوری اور جس طریقے سے میرے اور میری فیملی کے کوائف اکٹھے کیے گئے پر بھی قانونی سوال ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھا ہے کہ میری بیوی اور بچوں کی جاسوسی کروائی جاتی رہی ہے۔
درخواست کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزار نے وزیراعظم اور ان کی بیویوں کو معاملے میں بلاوجہ گھسیٹا جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
”سپریم جوڈیشل کونسل یہ بات بھول رہی ہے صدر نے میرے خلاف ریفرنس وزیراعظم کی ہدایت پر ہی دائر کیا تھا۔ دراصل وزیراعظم نے درخواست گزار کی بیوی اور بچوں کو اس معاملے میں گھسیٹا ہے۔“
درخواست گزار کی بیوی اور بچوں کی غیر قانونی طریقے سے جاسوسی کی گئی اور پاکستان کے خفیہ آلات اور فنڈز کا ناجائز استعمال کیا گیا۔
جسٹس فائز نے لکھا ہے کہ اگر کہا گیا تو وہ تفصیلات سے بھی اگاہ کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق درخواست گزار کی بیوی اور بچوں کی ذاتی تفصیلات اور دستاویزات کی تحقیقات اور جائزہ لیا گیا۔
نادرا، ایف ائی اے، پاسپورٹ اینڈ امیگریشن آفس،ایف بی ار اور وزارت داخلہ کے پاس موجود کانفیڈینشل تفصیلات کی بھی سکروٹنی کی گئی۔ بے بنیاد اور غیر متعلقہ تفصیلات اور دستاویزات کی بنیاد پر آدھے سچ گھڑ کر غلط ریفرنس تیار کیا گیا۔
کونسل کے حکم نامے میں وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی غلط کاریوں کو نظر انداز کیا گیا۔ یہاں تک کہ کونسل نے وزیراعظم سے اپنی تمام ہمدردیاں بھی ظاہر کیں۔

