مجھے واٹس ایپ پر کیس نہ سننے کا حکم ملا، جج
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور کی انسداد منشیات کی عدالت کے جج نے کہا ہے کہ ان کو واٹس ایپ کے ذریعے حکم دیا گیا ہے کہ رانا ثنا اللہ کا مقدمہ نہ سنیں اور ان کی جگہ دوسرا جج یہ کیس سنے گا۔
عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران جج مسعود ارشد نے وکلا کو بتایا کہ ہائیکورٹ نے مجھے واٹس ایپ مسیج کے ذریعے کام کرنے سے روک دیا ہے۔
انسداد منشیات عدالت کے جج مسعود ارشد نے کہا کہ اس لیے وہ اس مقدمے میں کسی قسم کا ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی ٹرائل جاری رکھ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان ٹوئنٹی فور نے ایک ماہ قبل نوٹیفیکیشن کے ساتھ حکومتی خواہش کی خبر بریک کی تھی جس میں جج مسعود ارشد کی جگہ ہائکیورٹ سے دوسرا جج لگانے کی درخواست کی گئی تھی۔
حکومت نے وزارت قانون کے ذریعے مریم نواز، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے مقدمات سننے والے لاہور کی احتساب عدالت کے ججز مشتاق الہی اور نعیم ارشد کی خدمات بھی ہائیکورٹ کو واپس کر دی ہیں اور ڈیپوٹیشن پر نئے ججز لگانے کی سفارش کی ہے۔
رانا ثنا اللہ کا مقدمہ سننے والے جج مسعود ارشد نے عدالت میں کہا کہ مجھے واٹس اپ کر دیا ہے کہ آپ کام نہیں کر سکتے، لہذا میں اس کیس میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔
مسعود ارشد کا کہنا تھا کہ ”نہیں جانتا کہ کیا ہوا ہے۔ میرا ملک پاکستان ہے، میں آزاد ہوں۔“
جج مسعود ارشد کا کہنا تھا کہ ”میرا ادارہ میرے پیچھے ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی۔“
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناء اللہ کے وکیل زاہد بخاری نے کہا کہ انتہائی افسوس ہے۔ عدلیہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ملزم کے وکلا اپنے دلائل مکمل کر چکے ہوں اور استغاثہ کے وکلا تاریخ لینے کی کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو بدنیتی سے روکا گیا۔ بدنیتی سے یہ عمل کیا گیا۔ رانا ثنا سے کوئی برآمدگی نہیں کی گئی۔ ہم عدلیہ کے ساتھ ہیں اور اس کی آزادی کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔
وکیل زاہد بخاری نے کہا کہ اب چیف جسٹس ہائیکورٹ کا امتحان ہے کہ حکومت سے پوچھے کہ ان ججوں کو کیوں ہٹایا گیا۔ حکومت کے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حد کر دی گئی ہے۔ کون کیس سنے گا، اس کا اختیار عدلیہ کے پاس ہے حکومت کے پاس نہیں۔ آج حکومت پر بدنیتی کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔
”ہمیں چیف جسٹس اس بھونڈے حکومتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کی توقع ہے۔“
ن لیگ کی رکن عظمی بخاری نے کہا کہ عدلیہ کو واٹس ایپ پر چلایا جا رہا ہے۔ سارے دلائل ہونے کے بعد جج بدل دیا گیا۔ انصاف کے ضامن ادارے کو بھی تباہ کیا جا رہا ہے۔ عدلیہ میں اچھے ججز موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کھل کر سامنے آو اور کہو کہ میں نے تمہیں ہمیشہ کے لئے بند رکھنا ہے۔ اس کو عدالتیں، جج اور فیصلے سلیکٹڈ چاہئیں۔
عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ ان کا سیاسی انتقام کہاں جا کر رکے گاہم زیادہ عزم کے ساتھ اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس وزیر اعظم کا بھی گلیوں سڑکوں پر وہی حال کرینگے جو ماضی میں ایسے لوگوں کا کیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ استغاثہ نے رانا ثنا کیخلاف ایک لفظ نہیں بولا۔ حکومت سے رابطہ کرنے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کو خط لکھ کر جج کی خدمات فوری واپس لے لی گئیں۔
چیف جسٹس اس جج کے فوری تبادلے کا نوٹس لیں۔ شہریار آفریدی صاحب برآمدگی کی ویڈیو کہاں ہے۔
وفاقی حکومت نے جج ارشد ملک کو بھی اپنے پاس رکھا۔ یہ انسانی حقوق کےمعاملہ ہےرانا ثناء اللہ کوئی گلہ نہیں کریں گے۔

