غائب دماغ وکیل کو 20 ہزار جرمانہ
پاکستان کی سپریم کورٹ میں ایک وکیل کو اس وقت جرمانے اور بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے فائل نہ پڑھنے کی وجہ سے اپنے پارٹی کے بجائے مخالف فریق کی جانب سے دلائل دیے۔
سپریم کورٹ نے اراضی تنازع کے مقدمے میں مخالف فریق کے حق میں دلائل دینے پر درخواست گزار کے وکیل کو 20 ہزار روپے جرمانہ کیا اور بنچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ایڈووکیٹ صاحب! فیس لیتے ہوئے آپ کو جلدی ہوتی ہے، کیس بھی پڑھ لیا کریں۔
کیس کی سماعت کے آغاز پر عدالت نے استفسار کیا کہ وکیل صاحب! آپ کس فریق کا کیس لڑرہے ہیں؟ بھائی کی طرف سے دلائل دے رہے ہیں یا بہن کی جانب سے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ بہن کی طرف سے دلائل دے رہا ہوں۔
جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ وکیل صاحب ! آپ نے بھائی کی جانب سے وکالت نامہ جمع کرایا ہے اور ،آدھے گھنٹے سے مخالف فریق کے حق میں دلائل دے رہے ہیں، ثبوت اورعدالتی فیصلے کاحوالہ بھی مخالف فریق کے حق میں ہے۔
عدالتی آبزرویشن پر وکیل سجاد حسن شاہ نے کیس کی فائل درخواست گزار کو تھمائی تو جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ سائل تو اردو نہیں بول سکتا انگریزی میں لکھی فائل کیسے پڑھے گا؟ فیس لیتے ہوئے آپ کوجلدی ہوتی ہے، کیس بھی پڑھا کریں۔
مخالف فریق کے حق میں دلائل دینے پر عدالت نے وکیل کو 20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رقم کی ادائیگی بینچ کے سامنے درخواست گزار کو کی جائے۔

