آواران سے گرفتار چار بلوچ خواتین رہا
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران سے عسکریت پسند تنظیم سے تعلق کے الزام میں گرفتار کی گئیں چار خواتین کو رہا کردیا گیا ہے۔
گذشتہ ہفتے گرفتار کی گئیں خواتین سے دستی بم اور دیگر اسلحہ برآمد کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ خواتین کی گرفتاری پر بلوچستان کی سیاسی جماعتوں نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔ بی این پی مینگل نے قومی اسمبلی میں دھرنا دیا تھا جبکہ پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے حکومتی اتحاد سے نکلنے کا اشارہ بھی دیا تھا۔
پیر کی شام خضدار میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج جان محمد گوہر نے آواران سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما سردار حیات خان ساجدی کی شخصی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی حکم کے بعد خواتین کو سینٹرل جیل خضدار سے رہا کرکے سردار حیات خان ساجدی کے حوالے کردیا گیا۔
ٹوئٹر پر سردار اختر مینگل کے اکاؤنٹ سے ان خواتین کی رہائی کی خبر دی گئی جس کے بعد قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے بھی ٹویٹ کیا اور بلوچ خواتین کی رہائی پر وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں ہزاروں افراد کے لاپتہ ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں تاہم یہ پہلی بار تھا کہ خواتین کے لاپتہ ہونے کے دو دن بعد ان کو اسلحہ و بارود سمیت میڈیا کے سامنے پیش کرکے جیل بھیجا گیا تھا۔

