پاکستان

چیف جسٹس نے آف دی ریکارڈ کہا؟

دسمبر 18, 2019

چیف جسٹس نے آف دی ریکارڈ کہا؟

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ سے عدالت عظمی کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے ریٹائرمنٹ سے قبل الوداعی ملاقات کی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے اپنے کچھ تجربات شیئر کیے اور بتایا کہ پرویز مشرف کے کیس میں کئی مشکل مراحل آئے اور ان سے رابطے کی کوشش کی گئی مگر انہوں بطور جج اپنا کنڈکٹ برقرار رکھا اور رابطوں سے اجتناب کیا۔

ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کی گفتگو سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد اہم عہدوں کی پیشکش کی گئی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے ایم جے ٹی وی کے حوالے سے بھی گلے شکوے کیے تاہم یہ بھی تسلیم کیا کہ مثبت تنقید ضروری ہے اور انہوں نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔

ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ مشرف کیس اوپن اینڈ شٹ تھا اور سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی کہ 2007 کی ایمرجنسی غیرآئینی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ عدل کریں تو کسی بات کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔

ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے سسلین مافیا اور گاڈ فادر کے حوالے سے بھی ایک بار پھر وضاحت کی۔

سپریم کورٹ سے جاری وضاحتی بیان

بدھ کو سپریم کورٹ سے جاری کیے گئے ایک وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس سے بعض جملے منسوب کیے گئے جو انہوں نے نہیں کہے اور سیاق و سابق سے ہٹ کر خبر چلائی گئی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے