’تعلیم تو میٹرک مگر انگلش اچھی ہے‘
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت نے ایک میٹرک پاس رکن اسمبلی کو تعلیم کا قلمدان سونپا ہے۔
سنیچر کو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے اپنی کابینہ میں چند تبدیلیاں کر کے کچھ نئے وزرا کو شامل جبکہ کچھ وزیروں کے قلمدان تبدیل کیے گئے۔
اکبر ایوب کا نام بھی نئے وزرا میں شامل ہیں جن کی تعلیمی قابلیت صرف میٹرک پاس ہے اورانہیں صوبے کی تعلیم کی وزارت حوالے کی گئی ہے۔
اکبر ایوب خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور اس سے قبل صوبائی وزیر برائے مواصلات اور تعمیرات تھے۔
صحافی محمود جان بابر نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ صوبے کے نئے وزیر تعلیم کو خوش آمدید کہا جائے جن کی تعلیم میٹرک ہے۔
ٹوئٹر اور فیس بک پر سینکڑوں صارفین نے نئے وزیر تعلیم کے تقرر پر اپنی آرا ظاہر کی ہیں۔ زیادہ تر افراد نے اس کو ایک غلط فیصلہ قرار دیا ہے ۔
صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے وزیر تعلیم کے بارے میں ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے کہا ہے کہ اکبر ایوب کی تعلیم تو میٹرک ہے مگر ان کی انگریزی بہت اچھی ہے اور وہ باہر سے آنے والے وفود سے ملاقاتوں میں بہت روانی سے انگلش بولتے ہیں۔
ٹوئٹر صارف ذیشان خٹک نے لکھا ہے کہ مراد سعید کی تیز ترین ماسٹر ڈگری سے وزیر تعلیم اکبر ایوب کی میٹرک کی ڈگری زیادہ بہتر ہے۔
نئے صوبائی وزیر تعلیم نے ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تعلیم سے کوئی فرق نہیں پڑتا انہوں نے تعلیمی پالیسی بنانی ہے۔ اکبر ایوب نے کہا کہ وہ صوبے میں تعلیمی نظام کو بہتر بنائیں گے۔

