انڈیا: یونیورسٹی پر حملے کے بعد احتجاج
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حامی طلبہ تنظیم کے حملے کے خلاف ملک کے بڑے شہروں میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا ہے۔
حملے میں میں بڑی تعداد میں طلبہ اور پروفیسر زخمی ہوئے تھے۔
نئی دہلی-۵/جنوری (محمد علم اللہ) اتوار کی رات ایک گروپ نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں گھس کر حملہ کیا جس میں بڑی تعداد میں طلبہ و اساتذہ زخمی ہوگئےـ
طلبہ کے مطابق بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے غنڈوں نے یہ حملہ کیا وہ سبرامتی ڈھابا کے پاس لاٹھی ڈنڈے اور دیگر ہتھیار سے لیس ہوکر بڑی تعداد میں پہونچے تھے اور انہوں نے اضافہ شدہ فیس کے خلاف احتجاج کررہے طلبہ پر حملہ کردیا۔
اس حملے میں جے این یو طلبہ یونین کی صدر آشی گھوش شدید طور پر زخمی ہوگئیں انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان پر نقاب پوش غنڈوں نے حملہ کیا اور اس طرح سے پیٹا کہ وہ لہولہان ہوگئی۔
پروفیسر سچترا سین کو زخمی حالت میں ایمس میں داخل کیا گیا ہے، جے این یو ٹیچرایسوسی ایشن نے یہ تصدیق کی ہے کہ اے بی وی پی کے نقاب پوش غنڈے کیمپس میں لاٹھیوں، لوہے کے چھڑوں اور ہتھوڑوں سے لیس تھے- ایک طالب علم کے مطابق پولس کو بار بار فون کیا گیا مگر وہ کسی کو بچانے نہیں آئی- پروفیسر اتل سود نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ بڑی تعداد میں غنڈے ساڑھے چھ بجے شام کیمپس میں گھسے تھے اور وہ بہت بڑے بڑے پتھر پھینک رہے تھے، اتنے بڑے پتھر کے سر کے ٹکڑے ہوجائیں، اس حملہ میں میری کار بھی بری طرح سے تباہ ہوگئی ہے. طلبہ یونین کے نائب صدر ساکیت مون نے کہا کہ نقاب پوش غنڈے ہاسٹل کے ہر کمرے میں گھس رہے تھے اور جو بھی سامنے نظر آرہا تھا اس پر حملے کررہے تھے، سیکوریٹی گارڈ اور پولس تماشائی بنی ہوئی تھی-

ایک عینی شاہد طالب علم محمد ظفر (بدلا ہوا نام) نے بتایا کہ تقریبا سات بجے رات کے قریب دو سو سے زیادہ اے بی وی پی کے غنڈےسروشتی پورم گیٹ کے راستے جے این یو کیمپس میں داخل ہوئے کیونکہ پولس نے مرکزی شمالی دروازے کو بند کیا ہوا تھا۔
ایک اور طالب علم نے بتایا کہ حملہ منصوبہ بند تھا، نقاب پوش غنڈے پورے کیمپس میں دندناتے، توڑ پھوڑ مچاتے پھرے اور جو بھی طالب علم سامنے نظر آتا اس سے جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہتے اور نہ لگانے پر اس پر ٹوٹ پڑتے۔
جے این یو کے طلبہ کا الزام ہے کہ پولس غنڈوں کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔ ایم اے عربک سال آخر کے طالب علم محمد زعیم (بدلا ہوا نام) نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور طلبہ پر کئی بار حملہ ہوچکا تھا۔

اتوار کی شام کو سابرمتی ہاسٹل کے پاس صورت حال سنگین ہوگئی، جب اے بی وی پی کے نقاب پوش غنڈوں نے نہتے طلبہ پر حملہ کردیا اور لاٹھی ڈنڈے اور راڈ ہتھوڑوں سے ان پر ٹوٹ پڑے، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ و اساتذہ زخمی ہوگئے، یہ پورا واقعہ پولس کی سرپرستی میں ہوا، ہم طلباء ابھی خوفزدہ اور سہمے ہوئے ہیں اس لیے مزید گفتگو کرنے سے قاصر ہیں۔
دریں اثنا جے این یو کی انتظامیہ نے طلبہ سے امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولس کو حالات پر قابو پانے کیلیے بلا لیاگیا ہے، وہیں جے این یو سے گریجویشن کررہے ایک طالب علم نے نمائندے کو بتایا کہ رات سوا نو بجے پولس نے پورے کیمپس کو باہر سے اپنے حصار میں لے لیا ہے اور اندر تقریبا دو سو کے قریب سول ڈریس میں اے بی وی پی کے غنڈے اور پولس کے افراد توڑ پھوڑ اور طلبہ کو مار پیٹ رہے ہیں۔

طلبہ یونین کے آفیشیل ہینڈل سے ٹوئٹ کیا گیا ہے کہ ”وہ پروفیسر حضرات جو ہمیں بچانے کی کوشش کررہے تھے ان پر اے بی وی پی کے نامعلوم غنڈوں نے حملہ کیا جو نقاب پہنے ہوئے تھے، اس ٹوئٹ میں یہ اپیل کی گئی کہ ہیومن چین بناکر ہماری حفاظت کی جائے- ادھر جامعہ کے طلباء نے اس حادثہ کے بعد پولس ہیڈ کوارٹر کے گھیراو کی اپیل کی تھی جس پر طلبہ نے بڑی تعداد میں وہاں پہنچ کر اس کا گھیراو کیا اور دہلی پولس ہائے ہائے کے نعرے لگائےـ“

جامعہ کے طلبہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس کی انکوائری کرے اور خاطیوں کو فوری سزادےدے۔
دہلی حکومت نےزخمی طلبہ کو ایمس کے ٹراما سینٹر پہنچانے کیلئے دس سے زائد ایمبولینس بھیجی ہیں اور دہلی کے وزیر اعلی کیجری وال نے اس سارے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، وہیں دہلی کے لیفٹینٹ گور انل بیجل نے ٹوئٹ کرکے کہا ہے کہ طلباء اور اساتذہ کے خلاف جے این یو میں ہونے والا تشدد انتہائی قابل مذمت ہے۔
”دہلی پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جے این یو انتظامیہ سےمل کر امن و امان برقرار رکھے اور تشدد کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے۔“

