خواجہ کو ’کریلے گوشت‘ مہنگے پڑ گئے
پاکستان مسلم لیگ ن ملک میں فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے قانونی ترمیم کو ووٹ دینے کے بعد سخت دباؤ میں ہے اور عام لوگوں کے علاوہ پارٹی کے کارکن بھی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔
ن لیگ کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ ’ہمارے یہاں پر بندے جو ہے ٹویٹ کر دیا، اس کے بعد کریلے گوشت کھا کر سونڑ گے۔ وہ سممجھتا ہے کہ میرا کام پورا ہو گیا کہ میں نے فیس بک پر پوسٹ کر دیا اور ٹویٹ کر دیا۔ ایسے ایسے لوگ ہیں کہ جب میں ملک سے باہر جاتا تھا تو کہتے تھے کہ جی بھاگ گئے۔ ایسے ایسے لوگ جو خود ملک سے بھاگے ہوئے ہیں وہ ہمیں کہتے تھے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ ’ایسی صورتحال میں جدوجہد کے لیے ہم تیار نہیں ہیں کہ نواز شریف ہسپتال میں تھے اور سو افراد بھی نہ آئے۔‘
سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر دفاع کو اس بیان کے بعد شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے پارٹی کے کارکن بھی ان کے بیان کو ان کی ’ذاتی بزدلی‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر فاریا نے خواجہ آصف کا ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’میں خواجہ آصف کا احترام کرتی ہوں لیکن بات کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے، آپ لوگوں نے جو کھچ مارنی تھی، مار دی۔ کافی پڑھا لکھا طبقہ بغیر کسی غرض کے بھی آپ لوگوں کے لیے لکھتا تھا لیکن اگر آپ اتنی تضحیک کریں گے تو یہ بھی ختم ہوجائے گا۔ لوگوں کی عزت کرنا سیکھئے۔‘
دوسری جانب پارٹی کارکن اور سوشل میڈیا صارفین رانا ثنا اللہ کو ان کے بیان پر خراج تحسین پیش کر رہے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ن لیگ کا ورکر اور عام لوگ آرمی ایکٹ کو منظور کرانے پر ناخوش ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ لوگوں کی تنقید کو خوش آمدید کہتے ہیں اور یہی ووٹ کو عزت ہے۔ ’لوگ سخت سست باتیں کر رہے ہیں تو یہ ان کا ووٹ بول رہا ہے، سنا جانا چاہیے اور عزت کی جانی چاہیے۔‘

