مشرق وسطیٰ: پاکستان بغیر دعوت کے سرگرم
پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے ایران اور امریکہ کشیدگی کم کرانے کے لیے کوششوں کے سلسلے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تہران سے ریاض چلے گئے ہیں۔
تہران میں صدر حسن روحانی اور دیگر ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد ایک ٹویٹ میں پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم علاقائی سلامتی کے حصول کے لیے ہر سفارتی کوشش کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس حوالے سے بھی کہ پاکستان کی سرزمین جنگ کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔‘
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق دورانِ ملاقات ایران امریکہ کشیدگی، خطے میں امن و امان کی صورتحال اور پاکستان اور ایران کے کثیرالجہتی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ نے خطے میں قیام امن کے لیے ان کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والے حالیہ روابط کی تفصیلات سے بھی ایرانی صدر کو آگاہ کیا۔
پیر کو ریاض میں سعودی حکام سے ملاقات کے بعد شاہ محمود قریشی امریکہ بھی جائیں گے۔
خیال رہے کہ امن اور کشیدگی کم کرانے کے پاکستان کی ان کوششوں میں امریکہ، ایران یا سعودی عرب کی جانب سے کوئی دعوت نہیں آئی۔
وزارت خارجہ کے مطابق اس ملاقات کے دوران وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا لیکن خطے میں قیام امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا متحرک اور مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے کیونکہ پاکستان کا موقف یہی رہا ہے کہ خطہ مزید کشیدگی اور کسی نئی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
بیان کے مطابق ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے پاکستان کی طرف سے قیام امن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کشیدگی میں اضافے کا متمنی نہیں ہے۔

