دنیا کا سب سے مشہور اور مہنگا مجسمہ
محمد کاشف ۔ لندن
دنیا کے سب سے مشہور اور مہنگا مجسمے کا نام ڈیوڈ ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ کاپی ہونے والا مجسمہ بھی ڈیوڈ ہے۔
سنہ 1464 میں ماربل کے ایک بڑے بلاک پر اگسٹینو نے کام شروع کیا اور چھوڑ دیا۔ سنہ 1466 انٹونیو روزلینو نے کام کی حامی بھری لیکن مشکل ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ اگلے چونتیس سال پتھر کا یہ بلاک صرف اپنے خدا سے زندگی پانے کا منتظر رہا۔ بالآخر 1501 میں اس پتھر کو شاہکار میں بدلنے والا، اس پتھر کو امر کر دینے خود خدائے مجسمہ سازی مائیکل اینجلو اسے زندگی بخشنے آ پہنچا۔
مائیکل اینجلو نے ڈیوڈ کو مابل کے ایک سنگل پیس سے بنایا ہے۔ مائیکل اینجلو نے اسے سنہ 1501 سے 1504 کے دوران مکمل کیا۔ اس مجسمے کا وزن چھ ٹن، چھ ہزار کلو، سے زیادہ ہے۔ مائیکل اینجلو روم کے پرانے ماسٹرز سے بہت متاثر تھا۔ وہ کبھی بھی ان کی برابری، ان کے احترام کی بدولت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے اس نے ڈیوڈ میں ایک خامی جان بوجھ کر رکھی ہے۔ ڈیوڈ ہلکا سا بھینگا ہے۔
بائبل کے مطابق ڈیوڈ یعنی داود علیہ السلام نے ایک دیو گولائتھ Goliath کو مار گرایا تھا۔ گولائتھ امریت اور برائی کا نشان تھا۔ ڈیوڈ آزادی کا پیامبر اور برائی سے نجات کا نشان ٹھہرا۔ ڈیوڈ صدیوں سے پوری دنیا میں مردانہ حسن کا پیمانہ ہے۔ ڈیوڈ بطور شہری آزادی کے نشان کے طور پر فلورنس کی حکمران میڈیسی خاندان اور فلورنس کی ریپبلکن حکومت نے استعمال کیا۔۔
یہ دنیا کا سب سے مہنگا مجسمہ ہے۔ اس کی مالیت کا اندازہ 327 ملین یورو ہے۔ اس مجسمے کی انشورینس تین سو ملین یورو کی ہے۔ یہ کسی بھی مجسمے کی سب سے زیادہ انشورنس ہے۔ ڈیوڈ اور کچھ دوسرے مجسموں کو، جو کہ پلازو ویچینو نامی محل میں ہیں، دیکھنے کی قیمت بائیس یورو فی کس ہے۔ ہر سال 12 لاکھ 52 ہزار سے زیادہ لوگ ڈیوڈ کو دیکھنے دنیا بھر سے اتے ہیں۔

