امریکہ میں 10 ہزار ہلاک، تین لاکھ متاثر
امریکی ریاستوں میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی ہے اور ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ شہری عالمی وبا میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے آٹھ ریاستوں کے گورنرز نے ایمرجنسی پلان کے مطابق شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کرنے کی مزاحمت کی ہے اور بعض ریاستوں میں شہریوں کے لیے ساحل تاحال کھلے رکھے گئے ہیں۔
امریکہ کے سرجن جنرل جرومی ایڈم نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں کہا ہے کہ وائرس ان کا نیا نائن الیون یا پرل ہاربر جیسا واقعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وبا مزید پھیلے گی اور امریکیوں کو یہ بات سمجھنا چاہیے۔
امریکہ میں طبی شعبے کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کورونا وائرس سے مختلف ریاستوں میں اڑھائی لاکھ شہری لقمہ اجل بنیں گے اور اگر مکمل لاک ڈاؤن پر عمل نہ کیا گیا تو یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں وائرس سے 1200 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 600 صرف نیویارک ریاست میں موت کا شکار ہوئے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی اپریل کے وسط تک ملک میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔

