ہماری منزل سری نگر ہے: پاکستانی وزیر خارجہ
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پانچ اگست یوم استحصال کے طور پر منایا جائے گا، اسلام آباد سے مظفر آباد جانے والی شاہراہ کا نام تبدیل کیا جا رہا ہے اور کشمیر ہائی وے کا نام سری نگر ہائی وے ہو گا۔
جمعے کو اسلام آباد میں وزیراعظم کے قومی سلامتی کے لیے مشیر معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘ہماری منزل سرینگر ہے۔’
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان پانچ اگست کو آزاد کشمیر جائیں گے۔
اس موقع پر معید یوسف نے کہا کہ ‘3,4,5 اگست کو میڈیا پر کشمیر کے علاوہ کچھ اور نہیں آنا چاہیے ، یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔’
وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا کہ پاکستانی قوم آج کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، کشمیریوں نے بھارت کے پانچ اگست کے یکطرفہ قوانین کو یکسر مسترد کیا۔ وہ علاقہ جو قانونی طور متنازعہ علاقہ ہے بھارت نے ڈومیسائل قوانین میں ترمیم کے ذریعے اس کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
‘دنیا جانتی ہے کہ بنیادی حقوق مقبوضہ جموں و کشمیر میں آج بھی قدغنوں کا شکار ہے۔ کووڈ کے بعد دنیا جانتی ہے کہ پانچ ماہ کا لاک ڈاؤن قابل برداشت نہیں اور مقبوضہ کشمیر کے نہتے شہریوں کو اسے جھیلتے ایک سال ہو گیا ہے۔’
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ہم نے اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر کامیابی سے اجاگر کیا۔ اس سلسلے میں قومی میڈیا کا کردار ناقابل فراموش رہا۔ وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے چوہترویں اجلاس میں تقریر ریکارڈ کا حصہ ہے، انہوں نے کشمیریوں کا مقدمہ کشمیر کے سفیر کی حیثیت سے بہترین انداز میں لڑا۔
‘میں سعودی عرب، آذربائیجان اور ترکی وزرائے خارجہ کا شکرگزار ہوں کہ جس طرح انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر ہمارے موقف کی کھل کر تائید کی۔ یورپی یونین، ہاؤس آف کامز اور بین الاقوامی فورمز پر جس طرح کشمیر کے مسئلے پر گفتگو ہوئی وہ مثالی ہے۔’
وزیرخارجہ نے کہا کہ گذشتہ ایک سال میں وزیراعظم عمران خان کی مصروفیات کشمیر سے متعلق رہیں جن میں انٹرویوز اور خطوط شامل ہیں۔ ‘میں ہاؤس آف کامنز میں گیا اور اپوزیشن اراکین کو ساتھ لے گیا۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا نے جس طرح مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کیا وہ پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔’
پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور صدر سیکورٹی کونسل کو میں متعدد خطوط لکھ چکا ہوں تاکہ یہ خطوط ریکارڈ کا حصہ بنیں۔ مسئلہ کشمیر گذشتہ پچپن سال کے بعد دوبارہ سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا۔ آپ ہیومن رائٹس باڈیز کے موقف کو دیکھ لیجیے ان کی رپورٹس کو ملاحظہ فرمائیں۔
دنیا کے بڑے ممالک کے دارالحکومتوں میں جتنے احتجاج گذشتہ ایک سال میں کیے گئے ان کی مثال نہیں ملتی۔ ہماری منزل واضح ہے۔ 5 اگست کے حوالے سے میں یہی کہوں گا کہ بھارت کی کوششوں کو اور جبرو استبداد کو بہادر کشمیریوں نے مسترد کر دیا۔ میں ان کو یہی کہوں گا کہ آپ نے کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ آج کشمیری قیادت قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہے۔
5 اگست کے حوالے سے ہم نے مکمل پلان مرتب کیا ہے اس سال پانچ اگست کو پوری قوم یوم استحصال منائے گی۔ وہ دن دور نہیں جب سری نگر کی جامع مسجد میں شکرانے کے نوافل پاکستانی اور کشمیری مل کر ادا کریں گے۔
بھارت کو میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ لاین آف کنٹرول پر آپ جتنی بھی فائرنگ کریں نہ کشمیری پیچھے ہٹیں گے اور نہ افواج پاکستان کے حوصلے مانند پڑیں گے۔
چند روز قبل جو ایک تصویر میڈیا پر نمودار ہوئی جس میں نانا کو بچے کے سامنے گولی مار دی گئی اس ایک تصویر سے زیادہ کوئی موثر پیغام نہیں ہم اس حوالے سے انشاءاللہ پوسٹ اسٹمپ جاری کریں گے۔
پورے پاکستان میں واک کی جائیں گی اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کے ساتھ انٹرویوز ہوں گے جو وزیر اعظم عمران خان اور باقی وزراء کریں گے۔
اوپڈز چھپوائے جائیں گے، مضامین لکھوائے جائیں گے جن میں گذشتہ ایک سال کی صورتحال کا احاطہ کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر اس مسئلے کا اجاگر کیا جائے گا۔

