توہین مذہب کے مقدمات نمٹانے میں کیا رکاوٹ ہے؟
اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین مذہب کے ملزمان کے خلاف مقدمات جلد نمٹانے کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر سائبر کرائم اور کیس کے تفتیشی افسر کو زاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔
منگل کو عدالت نے وزارتِ داخلہ، سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اے سے استفسار کیا ہے کہ توہین مذہب کے جو ملزمان ریلیز ہوئے ان کا پتہ کریں ملک میں ہیں یا نہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پورے پاکستان میں درج توہین مذہب کے مقدمات پر میں کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے۔
ایف آئی اے نے توہین مذہب کے ملزمان کے مقدمات کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ لوگ خود ہی کیسسز کو برباد کرتے ہیں، کیا میں ڈی جی ایف آئی اے کو بلاؤں؟ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ گستاخی کے مرتکب کے ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانتیں مل جاتی ہیں۔
وکیل نے کہا کہ جن کو عدالتوں سے ضمانت ملتی ہیں وہ ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق ایف آئی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ جو ملزمان ریلیز ہوئے ان کا پتہ کریں ملک میں ہیں یا نہیں۔
عدالت نے کیس کی سماعت 2 ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

