پاکستان24 متفرق خبریں

حیات بلوچ کا قتل: ”ٹوئٹر ٹرینڈ اور پھر نیا واقعہ“

اگست 18, 2020

حیات بلوچ کا قتل: ”ٹوئٹر ٹرینڈ اور پھر نیا واقعہ“

پاکستانی فوج کی فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے تشدد اور فائرنگ سے بلوچستان کے علاقے تربت میں ہلاک ہونے والے حیات بلوچ کے والدین کی نعش کے ساتھ تصویر بلوچستان میں ظلم کی ایک علامت کے طور پر سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے۔

منگل کو پاکستان میں ہزاروں سوشل میڈیا صارفین نے حیات بلوچ کی نعش کی تصویر شیئر کر کے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے لکھا ہے کہ حیات بلوچ کے قتل میں ملوث اہلکار کو گرفتار کیا جا چکا ہے تاہم اس معاملے کی انکوائری کی جانی چاہیے۔

سوشل میڈیا صارفین نے وفاقی وزیر کے ٹویٹ پر تبصروں میں پوچھا ہے کہ ساہیوال میں قتل کیے گئے افراد کی انکوائری کا کیا بنا؟

نصیر شاہ نامی صارف نے جواب میں لکھا ہے کہ ”اچھا لگا آپ نے ٹویٹ کر کے اپنی زمہ داری پوری کر دی۔ اس کے سوا آپ کے ہاتھ میں ہے کیا کہ آپ استعفیٰ دیں اور احتجاج میں شامل ہو جائیں۔ ابھی ماضی قریب میں نقیب اللهّٰ محسود، ساہیوال سانحہ، اب حیات بلوچ۔
‏کچھ نہیں ہونے والا، ٹوئٹر ٹرینڈ، احتجاج، نیا واقعہ۔“

حماد رضا نے لکھا کہ ”جی ہاں! جس طرح ساہیوال کے بچوں کو انصاف ملا، جس طرح نقیب اللہ کے والد کو انصاف ملا، ایسے ہی حیات بلوچ کو انصاف مل جائے گا۔
‏تین دن بعد ایک ٹویٹ اور بس_!
‏اس سے آگے بھی کچھ کیجئے نہیں تو کرسی چھوڑ دیجئے۔“

صبا حیدر نے لکھا کہ ”یاد دلایا جاتا ہے کہ آپ انسانی حقوق کی وزیر ہیں۔“

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے